حدیث نمبر: 3842
حدثنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حدثنا أحمد بن يونس الضَّبّي، حدثنا أبو بدر شُجاع بن الوليد، حدثنا عبد الله بن زُبَيد، عن طلحة بن مُصرِّف، عن مصعب بن سعد بن أبي وقَّاص قال (1): الناسُ على ثلاثِ منازلَ، فمَضَت منهم اثنتان وبقيَت واحدةٌ، فأحسنُ ما أنتم كائنون عليه أن تكونوا بهذه المنزلة التي بقيَت، ثم قرأ: ﴿لِلْفُقَرَاءِ الْمُهَاجِرِينَ الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ وَأَمْوَالِهِمْ﴾ الآية، ثم قال: هؤلاء المهاجرون، وهذه منزلةٌ قد مضت، ثم قرأ: ﴿وَالَّذِينَ تَبَوَّءُوا الدَّارَ وَالْإِيمَانَ مِنْ قَبْلِهِمْ﴾ الآية، ثم قال: هؤلاء الأنصارُ، وهذه منزلةٌ وقد مضت، ثم قرأ: ﴿وَالَّذِينَ جَاءُوا مِنْ بَعْدِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ﴾ الآية [الحشر: 8 - 10]، قال: فقد مضت هاتانِ المنزلتانِ وبقيَت هذه المنزلةُ، فأحسنُ ما أنتم كائنون عليه أن تكونوا بهذه المنزلة التي بقيَت (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3800 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

مصعب بن سعد بن ابی وقاص سے روایت ہے، انہوں نے کہا: لوگ تین درجات (مرتبوں) پر ہیں، جن میں سے دو گزر چکے ہیں اور اب صرف ایک باقی ہے، پس تمہارے لیے سب سے بہتر حالت یہ ہے کہ تم اسی درجے پر رہو جو باقی رہ گیا ہے، پھر انہوں نے یہ آیت پڑھی: ﴿لِلْفُقَرَاءِ الْمُهَاجِرِينَ الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ وَأَمْوَالِهِمْ﴾ [الحشر: 8] اور فرمایا: یہ مہاجرین ہیں اور یہ درجہ گزر چکا، پھر انہوں نے یہ آیت پڑھی: ﴿وَالَّذِينَ تَبَوَّءُوا الدَّارَ وَالْإِيمَانَ مِنْ قَبْلِهِمْ﴾ [الحشر: 9] اور فرمایا: یہ انصار ہیں اور یہ درجہ بھی گزر چکا، پھر انہوں نے یہ آیت پڑھی: ﴿وَالَّذِينَ جَاءُوا مِنْ بَعْدِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ﴾ [الحشر: 10] اور فرمایا: پس یہ دونوں درجے گزر چکے ہیں اور اب صرف یہی درجہ باقی ہے، لہٰذا تمہارے لیے سب سے بہتر یہی ہے کہ تم اس درجے پر رہو جو باقی ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3842
درجۂ حدیث محدثین: إسناده محتم
تخریج حدیث «إسناده محتمل للتحسين إن شاء الله من أجل عبد الله بن زبيد» [ترقيم الرساله 3842] [ترقيم الشركة 3821] [ترقيم العلميه 3800]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) هكذا هو في (ز) و (ص) و (ع) من قول مصعب بن سعد بن أبي وقاص، وفي (ب): عن مصعب بن سعد عن سعد بن أبي وقاص قال، فجعله من رواية مصعب بن سعد عن أبيه، وهو كذلك في "تلخيص الذهبي" و "إتحاف المهرة" (5057)، والصواب أنه من قول مصعب بن سعد، وهو كذلك عند اللالكائي في "أصول الاعتقاد" وعند الماوردي والقرطبي في "تفسيريهما".
فنی نکتہ / علّت: نسخہ (ز)، (ص) اور (ع) میں یہ مصعب بن سعد بن ابی وقاص کا اپنا قول (مقطوع) ہے، جبکہ نسخہ (ب) میں اسے مصعب بن سعد عن ابیہ (سعد بن ابی وقاص) کی روایت بنا دیا گیا ہے۔ امام ذہبی کی "تلخیص" اور "اتحاف المہرہ" (5057) میں بھی یہی صورت ہے۔
اہم نکتہ: درست بات یہ ہے کہ یہ مصعب بن سعد کا اپنا قول ہے، جیسا کہ امام لالکائی (اصول الاعتقاد) اور امام ماوردی و قرطبی کی تفاسیر میں مذکور ہے۔
(2) إسناده محتمل للتحسين إن شاء الله من أجل عبد الله بن زبيد - وهو ابن الحارث الياميّ - فقد ذكره ابن حبان في "الثقات" وقال: روى عنه أهل الكوفة.
درجۂ حدیث: اس کی سند ان شاء اللہ "حسن" ہونے کا احتمال رکھتی ہے۔
فنی نکتہ / علّت: اس کی وجہ راوی عبداللہ بن زبید (الحارث یامی کے بیٹے) ہیں؛ انہیں ابن حبان نے "الثقات" میں ذکر کیا ہے اور کہا ہے کہ اہل کوفہ نے ان سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه اللالكائي في "أصول الاعتقاد" (2354) من طريق الحسن بن الحكم القُطرُبُلِّي، عن أبي بدر شجاع بن الوليد، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: امام لالکائی نے اسے "اصول الاعتقاد" (2354) میں حسن بن حکم قطربلی عن ابی بدر شجاع بن ولید کی سند سے روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3842 سے ماخوذ ہے۔