المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
تَفْسِيرُ سُورَةِ الْحَدِيدِ - خُصُوصِيَّاتُ أُمَّتِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ باب: تفسیرِ سورۃ الحدید — قیامت کے دن نبی ﷺ کی امت کی خصوصیات
أخبرنا الحسن بن يعقوب العَدْل، حدثنا يحيى بن أبي طالب، أخبرنا عبد الوهاب بن عطاء، أخبرنا سعيد بن أبي عَرُوبة عن قَتَادة، عن أبي حسّان الأعرج، أنَّ عائشة قالت: كان رسول الله ﷺ يقول: "كان أهلُ الجاهلية يقولون: إنَّما الطِّيَرةُ في المرأةِ والدَّابَةِ والدَّار"، ثم قرأَت ﴿مَا أَصَابَ مِنْ مُصِيبَةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي أَنْفُسِكُمْ إِلَّا فِي كِتَابٍ مِنْ قَبْلِ أَنْ نَبْرَأَهَا إِنَّ ذَلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ (22)﴾ [الحديد: 22] (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3788 - صحيحسیدنا ابوحسان اعرج رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ فرمایا کرتے تھے: ”دورِ جاہلیت کے لوگ کہا کرتے تھے کہ بدشگونی (صرف) عورت، جانور اور گھر میں ہوتی ہے“، پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿مَا أَصَابَ مِنْ مُصِيبَةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي أَنْفُسِكُمْ إِلَّا فِي كِتَابٍ مِنْ قَبْلِ أَنْ نَبْرَأَهَا إِنَّ ذَلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ (22)﴾ ”زمین میں یا تمہاری اپنی جانوں میں کوئی ایسی مصیبت نہیں پہنچتی جو ہمارے اسے پیدا کرنے سے پہلے ایک کتاب میں لکھی ہوئی نہ ہو، بے شک یہ اللہ پر بہت آسان ہے“ [سورة الحديد: 22]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: اس کی سند قوی ہے۔
مجموعی اصول / قاعدہ: عبد الوہاب بن عطاء کا سماع (حدیث سننا) سعید بن ابی عروبہ سے ان کے اختلاط (یادداشت خراب ہونے) سے پہلے کا ہے، اس لیے یہ روایت معتبر ہے۔
وأخرجه أحمد 43/ (26088) عن روح بن عبادة، عن سعيد بن أبي عروبة، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: امام احمد نے اسے 43/ (26088) میں روح بن عبادہ عن سعید بن ابی عروبہ کی سند سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
وأخرجه بنحوه أحمد أيضًا 42/ (25168) و 43/ (26034) من طريق همام بن يحيى، عن قتادة، به.
حوالہ / مصدر: امام احمد ہی نے اسے 42/ (25168) اور 43/ (26034) میں ہمام بن یحییٰ عن قتادہ کے طریق سے اس کے ہم معنی روایت کیا ہے۔