حدیث نمبر: 3830
أخبرنا الحسن بن يعقوب العَدْل، حدثنا يحيى بن أبي طالب، أخبرنا عبد الوهاب بن عطاء، أخبرنا سعيد بن أبي عَرُوبة عن قَتَادة، عن أبي حسّان الأعرج، أنَّ عائشة قالت: كان رسول الله ﷺ يقول: "كان أهلُ الجاهلية يقولون: إنَّما الطِّيَرةُ في المرأةِ والدَّابَةِ والدَّار"، ثم قرأَت ﴿مَا أَصَابَ مِنْ مُصِيبَةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي أَنْفُسِكُمْ إِلَّا فِي كِتَابٍ مِنْ قَبْلِ أَنْ نَبْرَأَهَا إِنَّ ذَلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ (22)﴾ [الحديد: 22] (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3788 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابوحسان اعرج رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ فرمایا کرتے تھے: ”دورِ جاہلیت کے لوگ کہا کرتے تھے کہ بدشگونی (صرف) عورت، جانور اور گھر میں ہوتی ہے“، پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿مَا أَصَابَ مِنْ مُصِيبَةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي أَنْفُسِكُمْ إِلَّا فِي كِتَابٍ مِنْ قَبْلِ أَنْ نَبْرَأَهَا إِنَّ ذَلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ (22)﴾ ”زمین میں یا تمہاری اپنی جانوں میں کوئی ایسی مصیبت نہیں پہنچتی جو ہمارے اسے پیدا کرنے سے پہلے ایک کتاب میں لکھی ہوئی نہ ہو، بے شک یہ اللہ پر بہت آسان ہے“ [سورة الحديد: 22]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3830
درجۂ حدیث محدثین: إسناده
تخریج حدیث «إسناده، قوي وسماع عبد الوهاب بن عطاء من سعيد بن أبي عروبة قبل اختلاطه.» [ترقيم الرساله 3830] [ترقيم الشركة 3809] [ترقيم العلميه 3788]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده، قوي وسماع عبد الوهاب بن عطاء من سعيد بن أبي عروبة قبل اختلاطه.
درجۂ حدیث: اس کی سند قوی ہے۔
مجموعی اصول / قاعدہ: عبد الوہاب بن عطاء کا سماع (حدیث سننا) سعید بن ابی عروبہ سے ان کے اختلاط (یادداشت خراب ہونے) سے پہلے کا ہے، اس لیے یہ روایت معتبر ہے۔
وأخرجه أحمد 43/ (26088) عن روح بن عبادة، عن سعيد بن أبي عروبة، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: امام احمد نے اسے 43/ (26088) میں روح بن عبادہ عن سعید بن ابی عروبہ کی سند سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
وأخرجه بنحوه أحمد أيضًا 42/ (25168) و 43/ (26034) من طريق همام بن يحيى، عن قتادة، به.
حوالہ / مصدر: امام احمد ہی نے اسے 42/ (25168) اور 43/ (26034) میں ہمام بن یحییٰ عن قتادہ کے طریق سے اس کے ہم معنی روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3830 سے ماخوذ ہے۔