المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
تَفْسِيرُ سُورَةِ الْحَدِيدِ - خُصُوصِيَّاتُ أُمَّتِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ باب: تفسیرِ سورۃ الحدید — قیامت کے دن نبی ﷺ کی امت کی خصوصیات
حدیث نمبر: 3827
أخبرنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا إسماعيل بن قُتيبة، حدثنا أبو بكر بن أبي شَيْبة، حدثنا عبد الله بن إدريس، عن أبيه، عن المِنهال بن عَمرو، عن قيس بن السَّكَن، عن عبد الله في قوله ﷿: ﴿يَسْعَى نُورُهُمْ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ﴾ [الحديد: 12]، قال: يُؤتَون نورَهم على قَدْر أعمالهم، منهم مَن نورُه مثلُ الجبل، وأدناهم نورًا من نورُه على إبهامِه، يَطفَأُ مرةً ويَقِدُ أُخرى (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3785 - على شرط البخاريحافظ طلحہ بابر
قیس بن سکن رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اللہ عزوجل کے اس فرمان ﴿يَسْعَى نُورُهُمْ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ﴾ ”ان کا نور ان کے سامنے دوڑ رہا ہوگا“ [سورة الحديد: 12] کے متعلق فرمایا: ”انہیں ان کے اعمال کے بقدر نور دیا جائے گا، ان میں سے کسی کا نور پہاڑ جیسا (عظیم) ہوگا، اور سب سے کم نور اس شخص کا ہوگا جس کا نور اس کے انگوٹھے پر ہوگا، جو کبھی بجھ جائے گا اور کبھی روشن ہوگا۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده قوي. إدريس: هو ابن يزيد الأَوْدي، وعبد الله: هو ابن مسعود. وهو في "مصنف ابن أبي شيبة" 13/ 299.
درجۂ حدیث: اس کی سند قوی ہے۔
فنی نکتہ / علّت: سند میں موجود راوی "ادریس" سے مراد ادریس بن یزید اودی ہیں اور "عبداللہ" سے مراد صحابیِ رسول حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہیں۔
حوالہ / مصدر: یہ روایت "مصنف ابن ابی شیبہ" 13/ 299 میں درج ہے۔
وأخرجه بنحوه الطبري في "تفسيره" 27/ 223، وكذا ابن أبي حاتم كما في "تفسير ابن كثير" 1/ 84 من طريقين عن عبد الله بن إدريس، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: امام طبری نے اپنی "تفسیر" 27/ 223 میں اس کے ہم معنی روایت تخریج کی ہے، اسی طرح ابن ابی حاتم نے بھی (جیسا کہ تفسیر ابن کثیر 1/ 84 میں مذکور ہے) عبداللہ بن ادریس کے واسطے سے دو طرق سے اسی سند کے ساتھ اسے روایت کیا ہے۔
وهو قطعة من خبر طويل سلف عند المصنف برقم (3465) من طريق مسروق عن ابن مسعود، وليس فيه التلاوة.
تفصیلِ روایت: یہ ایک لمبی حدیث کا ٹکڑا ہے جو اس سے پہلے مصنف (امام احمد) کے ہاں رقم (3465) پر مسروق عن ابن مسعود کے طریق سے گزر چکی ہے، تاہم اس میں تلاوت کا ذکر نہیں ہے۔
درجۂ حدیث: اس کی سند قوی ہے۔
فنی نکتہ / علّت: سند میں موجود راوی "ادریس" سے مراد ادریس بن یزید اودی ہیں اور "عبداللہ" سے مراد صحابیِ رسول حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہیں۔
حوالہ / مصدر: یہ روایت "مصنف ابن ابی شیبہ" 13/ 299 میں درج ہے۔
وأخرجه بنحوه الطبري في "تفسيره" 27/ 223، وكذا ابن أبي حاتم كما في "تفسير ابن كثير" 1/ 84 من طريقين عن عبد الله بن إدريس، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: امام طبری نے اپنی "تفسیر" 27/ 223 میں اس کے ہم معنی روایت تخریج کی ہے، اسی طرح ابن ابی حاتم نے بھی (جیسا کہ تفسیر ابن کثیر 1/ 84 میں مذکور ہے) عبداللہ بن ادریس کے واسطے سے دو طرق سے اسی سند کے ساتھ اسے روایت کیا ہے۔
وهو قطعة من خبر طويل سلف عند المصنف برقم (3465) من طريق مسروق عن ابن مسعود، وليس فيه التلاوة.
تفصیلِ روایت: یہ ایک لمبی حدیث کا ٹکڑا ہے جو اس سے پہلے مصنف (امام احمد) کے ہاں رقم (3465) پر مسروق عن ابن مسعود کے طریق سے گزر چکی ہے، تاہم اس میں تلاوت کا ذکر نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3827 سے ماخوذ ہے۔