المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
شَوَاهِدُ حَدِيثِ انْشِقَاقِ الْقَمَرِ باب: چاند کے شق ہونے سے متعلق حدیث کے شواہد
حدیث نمبر: 3805
حدَّثَناه علي بن محمد بن شُقَير (2) المقرئ بالكوفة، حَدَّثَنَا محمد بن عبد الله الحَضْرمي، حَدَّثَنَا أبو هشام محمد بن يزيد، حَدَّثَنَا حسين بن علي الجُعْفي، سمعت أبانَ بن تَغلِبَ يقرأ: (خاشِعًا أبصارُهم)، مثلَ حمزة (3).
حافظ طلحہ بابر
ابان بن تغلب رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے (مشہور قاری) امام حمزہ کو ﴿خَاشِعًا أَبْصَارُهُمْ﴾ [سورة القمر: 7] اسی طرح (الف کے ساتھ) پڑھتے ہوئے سنا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) تحرَّف في (ب) إلى: سعيد، وفي (ع) إلى: سفيان، والمثبت من (ز) و (ص)، وهو الصواب، فإنَّ المعروف بالرواية عن محمد بن عبد الله الحضرمي - وهو الحافظ المشهور بمطيَّن - هو ابن شُقير، وابن شقير هذا اسمه: علي بن الحسين بن يعقوب الهمداني الكوفي كما في "تلخيص المتشابه في الرسم" 1/ 563، وقد روى عنه الحاكم بهذا الاسم في "المدخل" كما في "النكت" للزركشي 2/ 324 ووصفه هناك بالمقرئ، وعليه فيكون ما وقع عند المصنّف هنا من تسميته بعلي بن محمد خطأ منه أو من بعض النساخ بعده، أو أنه نسبه إلى أحد أجداده، والله تعالى أعلم.
نوٹ / توضیح: نسخہ (ب) میں تحریف ہو کر "سعید" اور (ع) میں "سفیان" ہو گیا ہے۔ (ز) اور (ص) میں جو ہے وہی درست ہے، کیونکہ محمد بن عبد اللہ حضرمی (مشہور حافظ مطین) سے روایت کرنے والے معروف "ابن شقیر" ہیں، جن کا نام "علی بن حسین بن یعقوب ہمدانی کوفی" ہے۔ حاکم نے "المدخل" میں اسی نام سے روایت لی ہے، لہٰذا مصنف کا انہیں "علی بن محمد" لکھنا ان کی یا ناسخین کی غلطی ہے، یا شاید کسی دادا کی طرف نسبت کر دی ہو۔ واللہ اعلم۔
(3) إسناده ضعيف من أجل أبي هشام محمد بن يزيد الرفاعي المقرئ. وانظر ما قبله.
درجۂ حدیث: یہ سند ابو ہشام محمد بن یزید رفاعی مقرئ کی وجہ سے "ضعیف" ہے۔ پچھلی روایت بھی دیکھیں۔
نوٹ / توضیح: نسخہ (ب) میں تحریف ہو کر "سعید" اور (ع) میں "سفیان" ہو گیا ہے۔ (ز) اور (ص) میں جو ہے وہی درست ہے، کیونکہ محمد بن عبد اللہ حضرمی (مشہور حافظ مطین) سے روایت کرنے والے معروف "ابن شقیر" ہیں، جن کا نام "علی بن حسین بن یعقوب ہمدانی کوفی" ہے۔ حاکم نے "المدخل" میں اسی نام سے روایت لی ہے، لہٰذا مصنف کا انہیں "علی بن محمد" لکھنا ان کی یا ناسخین کی غلطی ہے، یا شاید کسی دادا کی طرف نسبت کر دی ہو۔ واللہ اعلم۔
(3) إسناده ضعيف من أجل أبي هشام محمد بن يزيد الرفاعي المقرئ. وانظر ما قبله.
درجۂ حدیث: یہ سند ابو ہشام محمد بن یزید رفاعی مقرئ کی وجہ سے "ضعیف" ہے۔ پچھلی روایت بھی دیکھیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3805 سے ماخوذ ہے۔