حدیث نمبر: 3806
حَدَّثَنَا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا العبَّاس بن محمد الدُّوري، حَدَّثَنَا أبو يحيى الحِمَّاني، حَدَّثَنَا النَّضْر أبو عمر الخزَّاز، عن عِكْرمة، عن ابن عبّاس قال: كان بين دعوة نوحٍ وبين هلاكِ قوم نوحٍ ثلاثُ مئة سنة، وكان فارَ التَّنُّورُ بالهند، وطافت سفينةُ نوحٍ بالبيت أُسبوعًا (1). صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3764 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا نوح علیہ السلام کی (قوم کے خلاف) دعا اور قومِ نوح کی ہلاکت کے درمیان تین سو سال کا فاصلہ تھا، اور (طوفان کے وقت) تنور ہندوستان کی سرزمین سے جوش مار کر ابھرا تھا، اور نوح علیہ السلام کی کشتی نے بیت اللہ کا ایک ہفتہ (سات بار) طواف کیا تھا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3806
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف جدًّا من أجل النضر. وهو مكرر (3350).» [ترقيم الرساله 3806] [ترقيم الشركة 3785] [ترقيم العلميه 3764]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده ضعيف جدًّا من أجل النضر. وهو مكرر (3350).
درجۂ حدیث: نضر کی وجہ سے یہ سند "سخت ضعیف" ہے۔ یہ (3350) پر مکرر ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3806 سے ماخوذ ہے۔