المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
تَوْضِيحُ مَعْنَى إِلَّا اللَّمَمَ باب: آیت ”إلا اللمم“ کے معنی کی وضاحت
أخبرني عبد الله بن الحسين القاضي بمَرْو، حَدَّثَنَا الحارث بن أبي أسامة، حَدَّثَنَا رَوْح بن عُبادة، حَدَّثَنَا زكريا بن إسحاق المكِّي، عن عمرو بن دِينار، عن عطاءٍ (1)، عن ابن عبّاس في قوله ﷿: ﴿الَّذِينَ يَجْتَنِبُونَ كَبَائِرَ الْإِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ إِلَّا اللَّمَمَ﴾ [النجم: 32]، يُلِمُّ بها ثم يتوبُ منها، قال ابن عَبَّاس: كان النَّبِيّ ﷺ يقول: "إنْ تَغفِرِ اللهمَّ تَغفِرْ جَمّا … وأيُّ عبدٍ لكَ لا أَلمّا" (2)
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3750 - على شرط البخاري ومسلمسیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ عزوجل کے اس فرمان ﴿الَّذِينَ يَجْتَنِبُونَ كَبَائِرَ الْإِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ إِلَّا اللَّمَمَ﴾ ”وہ لوگ جو بڑے گناہوں اور بے حیائی کے کاموں سے بچتے ہیں سوائے ہلکے سے گناہ کے“ [سورة النجم: 32] کے متعلق روایت ہے کہ («اللمم » سے مراد وہ گناہ ہے) جس کا انسان کبھی کبھار ارتکاب کر بیٹھے اور پھر اس سے توبہ کر لے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ نبی کریم ﷺ یہ کلمات فرمایا کرتے تھے: «إِنْ تَغْفِرِ اللَّهُمَّ تَغْفِرْ جَمَّا … وَأَيُّ عَبْدٍ لَكَ لَا أَلَمَّا» ”اے اللہ! اگر تو معاف فرمائے تو کثرت سے معاف فرمانے والا ہے، اور تیرا کون سا ایسا بندہ ہے جس سے کوئی لغزش یا چھوٹا گناہ سرزد نہ ہوا ہو۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
نوٹ / توضیح: مطبوعہ میں "بن یسار" کا اضافہ ہے، جبکہ ہمارے قلمی نسخوں اور ذہبی کی "تلخیص" میں صرف "عطاء" (مہمل/بغیر نسبت) ہے، اور یہ آگے نمبر (7812) پر بھی مہمل آئے گا۔ ظاہر ہے کہ یہ "عطاء بن ابی رباح" ہیں نہ کہ "عطاء بن یسار"۔ اگرچہ عمرو بن دینار مکی دونوں سے روایت کرتے ہیں، لیکن اطلاق کی صورت میں وہ ابن ابی رباح سے روایت کرتے ہیں، اور عطاء بن یسار سے روایت کرتے وقت قید لگاتے ہیں۔
(2) صحيح موقوفًا كما سلف بيانه برقم (181)، وهذا إسناد صحيح رجاله ثقات. وسيأتي مكررًا برقم (7812).
درجۂ حدیث: یہ موقوفاً "صحیح" ہے جیسا کہ نمبر (181) پر گزرا۔ یہ سند "صحیح" اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔ یہ نمبر (7812) پر مکرر آئے گی۔