المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
لَا تُبَاعُ أُمُّ حُرٍّ فَإِنَّهَا قَطِيعَةٌ باب: آزاد ماں کو بیچا نہیں جا سکتا کیونکہ یہ قطعِ رحمی ہے
أخبرنا عبد الله بن جعفر بن دَرَستَويهِ الفارسي، حَدَّثَنَا يعقوب بن سفيان الفارسي، حَدَّثَنَا يحيى بن يعلى بن الحارث، حَدَّثَنَا أَبي، حَدَّثَنَا غَيْلانُ بن جامع، عن إبراهيم بن حَرْب، عن عبد الله بن بُريدة، عن أبيه قال: كنت جالسًا عند عمر بن الخطَّاب إذ سمع صائحةً، فقال: يا يَرفَأُ، انظُرْ ما هذا الصوتُ، فانطلق فنَظَر، ثم جاء، فقال: جاريةٌ من قريش تُباعُ أمُها، قال: فقال عمر: ادعُ - أو قال: عليَّ بالمهاجرين والأنصار - قال: فلم يَمْكُثْ إِلَّا ساعةً حتَّى امتلأَت الدارُ والحُجْرة، قال: فحَمِدَ الله عمرُ وأثنى عليه، ثم قال: أما بعدُ، فهل تعلمونَه كان مما جاءَ به محمدٌ ﷺ القطيعةُ؟ قالوا: لا، قال: فإنها قد أصبَحَت فيكم فاشيةً، ثم قرأ: ﴿فَهَلْ عَسَيْتُمْ إِن تَوَلَّيْتُمْ أَن تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ وَتُقَطَّعُوا أَرْحَامَكُمْ﴾ [محمد: 22]، ثم قال: وأيُّ قطيعةٍ أقطعُ من أن تُباعَ أمُّ امرِئٍ فيكم، وقد أَوسَعَ اللهُ لكم؟! قالوا: فاصنَعْ ما بَدَا لك، قال: فكتب في الآفاق أن لا تُباعَ أمُّ حرٍّ، فإنها قطيعة، وإنه لا يَحِلُّ (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3708 - صحيحسیدنا عبداللہ بن بریدہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا تھا کہ انہوں نے ایک چیخنے والی کی آواز سنی، تو انہوں نے فرمایا: اے یرفا! دیکھو یہ کیسی آواز ہے، وہ گئے اور دیکھ کر آئے اور بتایا: قریش کی ایک لڑکی ہے جس کی ماں کو فروخت کیا جا رہا ہے، اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مہاجرین اور انصار کو میرے پاس بلاؤ، راوی کہتے ہیں: ابھی تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ گھر اور حجرہ بھر گیا، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا: امابعد! کیا تم جانتے ہو کہ جو کچھ محمد ﷺ لے کر آئے تھے اس میں قطع رحمی بھی تھی؟ انہوں نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: لیکن یہ قطع رحمی تم میں عام ہو چکی ہے، پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿فَهَلْ عَسَيْتُمْ إِن تَوَلَّيْتُمْ أَن تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ وَتُقَطَّعُوا أَرْحَامَكُمْ﴾ ”پس کیا تم سے یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ اگر تم حاکم بن جاؤ تو زمین میں فساد مچاؤ گے اور اپنے رشتے ناتے توڑ ڈالو گے؟“ [سورة محمد: 22] پھر فرمایا: اس سے بڑھ کر اور کیا قطع رحمی ہوگی کہ تم میں سے کسی شخص کی ماں کو فروخت کر دیا جائے جبکہ اللہ نے تمہیں وسعت عطا فرمائی ہے؟! انہوں نے کہا: آپ جو مناسب سمجھیں وہ کریں، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے تمام علاقوں میں یہ لکھوا دیا کہ کسی آزاد شخص کی ماں کو فروخت نہ کیا جائے کیونکہ یہ قطع رحمی ہے اور یہ حلال نہیں ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: اس کی سند ابراہیم بن حرب (سماک بن حرب کے بھائی) کی وجہ سے "حسن" ہے؛ ان سے تین راویوں نے روایت کی اور ابن حبان نے انہیں ثقات میں ذکر کیا۔ باقی رجال ثقہ ہیں۔
وأخرجه البيهقي 10/ 344 عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے بیہقی (10/ 344) نے ابو عبد اللہ الحاکم کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔