حدیث نمبر: 3751
أخبرنا جعفر بن محمد الخُلْدي، حَدَّثَنَا محمد بن علي بن زيد الصائغُ، حَدَّثَنَا سعيد بن منصور، حَدَّثَنَا عبد العزيز بن محمَّد، حَدَّثَنَا العلاء بن عبد الرحمن، عن أبيه، عن أبي هريرة قال: لما نَزَلَت ﴿وَإِن تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ﴾ [محمد: 38]، قالوا: يا رسول الله، مَن هؤلاء الذين إن تولَّينا استُبدِلوا بنا؟ وسلمانُ إلى جَنْبه، فقال: "هم الفُرْسُ، هذا وقومُه" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. ﷽ [48 - ومن تفسير سورة الفتح]
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3709 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت ﴿وَإِن تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ﴾ ”اور اگر تم (دین سے) منہ پھیرو گے تو وہ تمہارے علاوہ کسی اور قوم کو تمہاری جگہ بدل کر لے آئے گا“ [سورة محمد: 38] نازل ہوئی، تو صحابہ کرام نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! وہ کون لوگ ہیں کہ اگر ہم نے پیٹھ پھیری تو وہ ہماری جگہ لے لیں گے؟ اس وقت سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کے پہلو میں بیٹھے تھے، تو آپ ﷺ نے (سلمان رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے) فرمایا: ”یہ اور اس کی قوم (مراد اہل فارس) ہیں۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3751
درجۂ حدیث محدثین: إسناده قوي
تخریج حدیث «إسناده قوي، من أجل عبد العزيز بن محمد الدَّراوردي وشيخه العلاء.» [ترقيم الرساله 3751] [ترقيم الشركة 3730] [ترقيم العلميه 3709]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده قوي من أجل عبد العزيز بن محمد الدَّراوردي وشيخه العلاء.
درجۂ حدیث: یہ سند عبد العزیز بن محمد دراوردی اور ان کے شیخ علاء کی وجہ سے "قوی" ہے۔
فقد أخرجه الترمذي (3260)، وابن حبان (7123)، والطحاوي في "مشكل الآثار" (2136) من طرق عن العلاء بن عبد الرحمن، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ترمذی (3260)، ابن حبان (7123) اور طحاوی "مشکل الآثار" (2136) نے علاء بن عبد الرحمن کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وقد روي عن أبي هريرة أيضًا في "الصحيحين" وغيرهما: أنه لما نزلت سورة الجمعة وقرأ النَّبِيّ ﷺ قوله تعالى: ﴿وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ﴾ سُئل: من هؤلاء يا رسول الله؟ وكان فيهم سلمان الفارسي، فوضع النَّبِيّ ﷺ يده عليه وقال: "لو كان الإيمان عند الثُّريَّا لناله رجال من هؤلاء". وما في الصحيح أصح. وانظر تخريج طرقه في "مسند أحمد" 15/ (9406).
حوالہ / مصدر: ابو ہریرہ سے صحیحین وغیرہ میں مروی ہے کہ جب سورہ جمعہ نازل ہوئی اور نبی ﷺ نے آیت ﴿وَآخَرِينَ مِنْهُمْ...﴾ تلاوت کی تو پوچھا گیا: یا رسول اللہ یہ کون لوگ ہیں؟ وہاں سلمان فارسی موجود تھے، آپ ﷺ نے ان پر ہاتھ رکھا اور فرمایا: "اگر ایمان ثریا ستارے پر بھی ہوتا تو ان لوگوں میں سے کچھ مرد اسے پا لیتے"۔
اہم نکتہ: جو صحیحین میں ہے وہ زیادہ صحیح ہے۔ اس کے طرق کی تخریج "مسند احمد" (15/ 9406) میں دیکھیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3751 سے ماخوذ ہے۔