حدیث نمبر: 3749
حَدَّثَنَا أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا الحسن بن علي بن عفّان العامِري، حَدَّثَنَا أبو أسامة، حدثني حُسين بن ذَكْوان، عن عبد الله بن بُرَيدة، عن بُشَير بن كعب، عن شدَّاد بن أَوْس قال: قال رسول الله ﷺ: "سيِّد الاستغفار أن يقول العبد: اللهمَّ أنت ربِّي لا إله إلَّا أنت، خلقتَني، وأنا عبدُك، وأنا على عهدِك ووعدِك ما استطعتُ، أعوذُ بك من شرِّ ما صنعتُ، أبوءُ لك بذُنوبي، وأبُوءُ لك بنِعمتِك عليَّ، فاغفِرْ لي، إنه لا يَغفِرُ الذنوبَ إلَّا أنت" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3707 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر

سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سید الاستغفار یہ ہے کہ بندہ کہے: «اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبِّي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، خَلَقْتَنِي، وَأَنَا عَبْدُكَ، وَأَنَا عَلَى عَهْدِكَ وَوَعْدِكَ مَا اسْتَطَعْتُ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ، أَبُوءُ لَكَ بِذُنُوبِي، وَأَبُوءُ لَكَ بِنِعْمَتِكَ عَلَيَّ، فَاغْفِرْ لِي، إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ» ”اے اللہ! تو ہی میرا رب ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو نے ہی مجھے پیدا کیا، اور میں تیرا بندہ ہوں، اور میں اپنی طاقت کے مطابق تیرے عہد اور وعدے پر قائم ہوں، میں تیرے پاس ان تمام برائیوں سے پناہ مانگتا ہوں جو میں نے کیں، میں تیرے حضور اپنے گناہوں کا اعتراف کرتا ہوں اور مجھ پر تیری جو نعمتیں ہیں ان کا بھی اقرار کرتا ہوں، پس تو مجھے بخش دے، کیونکہ تیرے سوا کوئی گناہوں کو معاف کرنے والا نہیں۔“ “
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3749
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،أبو أسامة: هو حماد بن أسامة.» [ترقيم الرساله 3749] [ترقيم الشركة 3728] [ترقيم العلميه 3707]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده صحيح. أبو أسامة: هو حماد بن أسامة.
درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔ ابو اسامہ سے مراد حماد بن اسامہ ہیں۔
وأخرجه ابن حبان (932) من طريق بن أبي بكر بن أبي شيبة، عن أبي أسامة، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابن حبان (932) نے ابن ابی بکر بن ابی شیبہ عن ابو اسامہ کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 28/ (17111) و (17130)، والبخاري (6306) و (6323)، والنسائي (7908) و (9763) و (10225) و (10341)، وابن حبان (933) من طرق عن حسين بن ذكوان المعلِّم، به - وزادوا في آخره: "من قالها من النهار موقنًا بها، فمات من يومه قبل أن يُمسي، فهو من أهل الجنة، ومن قالها من الليل وهو موقن بها، فمات قبل أن يصبح، فهو من أهل الجنة". البخاري واستدراك الحاكم له ذهولٌ منه. وأخرجه مع الزيادة: الترمذي (3393) من طريق كثير بن زيد الأسلمي، عن عثمان بن ربيعة، عن شداد بن أوس. وهذا إسناد حسن في المتابعات والشواهد وقال الترمذي: حديث حسن غريب من هذا الوجه.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (28/ 17111 وغیرہ)، بخاری (6306، 6323)، نسائی (7908 وغیرہ) اور ابن حبان (933) نے حسین بن ذکوان معلم کے مختلف طرق سے روایت کیا اور آخر میں اضافہ کیا: "جس نے یقین کے ساتھ دن میں اسے پڑھا اور شام سے پہلے فوت ہو گیا تو وہ جنتی ہے، اور جس نے یقین کے ساتھ رات میں پڑھا اور صبح سے پہلے فوت ہو گیا تو وہ جنتی ہے۔" یہ بخاری میں ہے، لہٰذا حاکم کا اسے مستدرک کہنا ذہول ہے۔
متابعات و شواہد: اسے ترمذی (3393) نے کثیر بن زید اسلمی کے طریق سے بھی روایت کیا ہے جو متابعات میں "حسن" ہے، ترمذی نے اسے "حسن غریب" کہا۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3749 سے ماخوذ ہے۔