المستدرك على الصحيحين
كتاب العلم— علم کا بیان
كَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يَقُومُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ إِلَى جَانِبِ الْمِنْبَرِ فَيُحَدِّثُ باب: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ جمعہ کے دن منبر کے قریب کھڑے ہو کر احادیث بیان فرمایا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 374
حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وَهْب، أخبرني مالك، عن أبي النَّضْر، عن عبيد الله بن أبي رافع، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "لا أعرِفنَّ الرجلَ متَّكئًا، يأتيه الأمرُ من أمري ممّا أمرت به أو نهيتُ عنه، فيقول: ما نَدْري، هذا هو كتابُ الله، وليس هذا فيه" (3).
حافظ طلحہ بابر
عبیداللہ بن ابی رافع سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں کسی شخص کو اس حال میں ہرگز نہ پہچانوں کہ وہ ٹیک لگائے بیٹھا ہو اور اس کے پاس میرا کوئی حکم یا ممانعت پہنچے تو وہ کہے: ہم نہیں جانتے، یہ اللہ کی کتاب ہے اور اس میں یہ (حکم) موجود نہیں ہے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) حديث صحيح رجاله ثقات، وقد خولف ابن وهب عن مالك في إرساله، فرواه أبو إسحاق الفزاري عن مالك موصولًا بذِكْر أبي رافع فيه أخرجه من طريقه ابن حبان في "صحيحه" (13).
درجۂ حدیث: یہ حدیث "صحیح" ہے اور اس کے تمام راوی ثقہ ہیں۔
فنی نکتہ / علّت: ابن وہب نے اسے امام مالک سے مرسل روایت کیا ہے لیکن ان کی مخالفت ابو اسحاق الفزاری نے کی ہے جنہوں نے امام مالک سے اسے "موصولاً" (ابو رافع کے ذکر کے ساتھ) بیان کیا ہے۔
حوالہ / مصدر: اسے ابن حبان نے اپنی "صحیح" (13) میں روایت کیا ہے۔
درجۂ حدیث: یہ حدیث "صحیح" ہے اور اس کے تمام راوی ثقہ ہیں۔
فنی نکتہ / علّت: ابن وہب نے اسے امام مالک سے مرسل روایت کیا ہے لیکن ان کی مخالفت ابو اسحاق الفزاری نے کی ہے جنہوں نے امام مالک سے اسے "موصولاً" (ابو رافع کے ذکر کے ساتھ) بیان کیا ہے۔
حوالہ / مصدر: اسے ابن حبان نے اپنی "صحیح" (13) میں روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 374 سے ماخوذ ہے۔