حدیث نمبر: 3672
أخبرنا الحسن بن حَلِيم المروَزي، حدثنا أبو الموجِّه، أخبرنا عَبْدانُ، أخبرنا عبد الله، أخبرنا عَنبسةُ بن سعيد، عن حبيب بن أبي عَمْرة، عن مجاهد قال: قال لي عبد الله بن عبّاس: أتدري ما سَعَةُ جهنَّمَ؟ قلت: لا، قال: أجلْ والله ما تدري، إنَّ بين شَحْمةِ أُذنِ أحدِهم وبين عاتِقِه مَسِيرةَ سبعين خريفًا، أوديةَ القَيْح والدَّم، قلت له: أنهارٌ؟ قال: لا بل أوديةٌ. ثم قال: أتدري ما سَعَةُ جهنَّمَ؟ قلت: لا، قال: أجلْ والله ما تدري، حدثتني عائشةُ: أنها سألَتْ رسول الله ﷺ عن قوله ﷿: ﴿وَالْأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّمَاوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ﴾ [الزمر: 67]، قلت: فأين الناسُ يومئذٍ يا رسولَ الله؟ قال: "على جِسْرِ جهنَّمَ" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3630 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

مجاہد سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھ سے پوچھا: کیا تم جانتے ہو کہ جہنم کی وسعت کتنی ہے؟ میں نے عرض کیا: نہیں، انہوں نے کہا: ہاں، اللہ کی قسم تم نہیں جانتے؛ بے شک ان (جہنمیوں) میں سے کسی کے کان کی لو اور اس کے کندھے کے درمیان ستر سال کی مسافت کا فاصلہ ہے، جس میں پیپ اور خون کی وادیاں ہیں، میں نے پوچھا: کیا وہ نہریں ہیں؟ انہوں نے کہا: نہیں بلکہ وادیاں ہیں۔ پھر انہوں نے پوچھا: کیا تم جانتے ہو کہ جہنم کی وسعت کتنی ہے؟ میں نے عرض کیا: نہیں، انہوں نے کہا: ہاں، اللہ کی قسم تم نہیں جانتے؛ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھے بتایا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے اللہ عزوجل کے اس فرمان کے بارے میں پوچھا: ﴿وَالْأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّمَاوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ﴾ ”اور قیامت کے دن تمام زمین اس کی مٹھی میں ہوگی اور آسمان اس کے دائیں ہاتھ میں لپٹے ہوئے ہوں گے۔“ [سورة الزمر: 67] میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اس دن لوگ کہاں ہوں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جہنم کے پل (صراط) پر۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3672
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،أبو الموجِّه: هو محمد بن عمرو الفَزَاري، وعبدان: هو عبد الله بن عثمان المروزي، وعبد الله: هو ابن المبارك.» [ترقيم الرساله 3672] [ترقيم الشركة 3651] [ترقيم العلميه 3630]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده صحيح. أبو الموجِّه: هو محمد بن عمرو الفَزَاري، وعبدان: هو عبد الله بن عثمان المروزي، وعبد الله: هو ابن المبارك.
درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔
نوٹ / توضیح: ابو موجہ سے مراد محمد بن عمرو فزاری، عبدان سے مراد عبد اللہ بن عثمان مروزی، اور عبد اللہ سے مراد ابن مبارک ہیں۔
وأخرجه أحمد (41/ 24856)، والترمذي (3241)، والنسائي (11389) من طرق عن عبد الله بن المبارك، بهذا الإسناد - والنسائي لم يخرج الشطر الأول الموقوف منه.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (41/ 24856)، ترمذی (3241) اور نسائی (11389) نے ابن مبارک کے واسطے سے کئی طرق سے تخریج کیا ہے۔ نسائی نے اس کا پہلا موقوف حصہ نہیں نکالا۔
وقد سلف الحديث عند المصنف برقم (3036) من طريق هارون بن المغيرة عن عنبسة إلّا أنَّه ذكر في قصة عائشة سؤالًا وجوابًا آخر.
نوٹ / توضیح: یہ حدیث مصنف کے ہاں پہلے (3036) پر ہارون بن مغیرہ عن عنبسہ کے طریق سے گزر چکی ہے، لیکن وہاں عائشہ کے قصے میں سوال و جواب مختلف ہیں۔
وسلف نحو الشطر الثاني هنا برقم (3384) من طريق مسروق عن عائشة.
نوٹ / توضیح: اس کے دوسرے حصے کی مثل یہاں (3384) پر مسروق عن عائشہ کے طریق سے گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3672 سے ماخوذ ہے۔