المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
كَانَ دَاوُدُ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَعْبَدَ الْبَشَرِ باب: حضرت داؤد علیہ السلام تمام انسانوں میں سب سے زیادہ عبادت گزار تھے
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا محمد بن فُضَيل، حدثنا محمد بن سَعْدٍ (2) الأنصاري، عن عبد الله بن يزيد الدِّمشقي، حدثنا عائذُ الله أبو إدريس الخَوْلاني، عن أبي الدَّرداء، عن النبي ﷺ قال: "قال داود ﵇: وأسألُكَ حبَّك وحبَّ من يُحبُّك، والعملَ الذي يُبلِّغُني حبَّك، ربِّ اجعلْ حبَّك أحبَّ إليَّ من نَفْسي وأهلي ومِن الماءِ البارد". وكان النبي ﷺ إذا ذَكَرَ داودَ وحدَّث عنه قال: "كان أعبدَ البَشرِ" (3). صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3621 - بل عبد الله بن يزيد الدمشقي هذا قال أحمد أحاديثه موضوعةسیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”سیدنا داؤد علیہ السلام یہ دعا کیا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ حُبَّكَ، وَحُبَّ مَنْ يُحِبُّكَ، وَالْعَمَلَ الَّذِي يُبَلِّغُنِي حُبَّكَ، اللَّهُمَّ اجْعَلْ حُبَّكَ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ نَفْسِي وَأَهْلِي وَمِنَ الْمَاءِ الْبَارِدِ» ”اے اللہ! میں تجھ سے تیری محبت کا، اس شخص کی محبت کا جو تجھ سے محبت کرتا ہے اور ایسے عمل کا سوال کرتا ہوں جو مجھے تیری محبت تک پہنچا دے، اے میرے رب! اپنی محبت کو میرے لیے میری جان، میرے اہل و عیال اور ٹھنڈے پانی سے بھی زیادہ محبوب بنا دے۔“ اور جب نبی کریم ﷺ سیدنا داؤد علیہ السلام کا ذکر فرماتے یا ان کے بارے میں کوئی بات بتاتے تو فرماتے: ”وہ تمام انسانوں میں سب سے زیادہ عبادت گزار تھے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
نوٹ / توضیح: نسخہ (ز، ص، ع) میں "سعید" ہے، نسخہ (ب) سے جو ثابت ہے وہی "درست" (صواب) ہے جو مصادر کے موافق ہے۔
(3) إسناده ضعيف لجهالة عبد الله بن يزيد الدمشقي: وهو عبد الله بن يزيد بن ربيعة، هكذا جاء منسوبًا عند البخاري في "تاريخه الكبير" 5/ 229، ويقال: عبد الله بن ربيعة بن يزيد، وقد وهمَ الذهبي في "تلخيصه" فظنَّه عبد الله بن يزيد بن آدم الدمشقي فنقل فيه قول أحمد: أحاديثه موضوعة.
درجۂ حدیث: "عبد اللہ بن یزید دمشقی" (ابن یزید بن ربیعہ) کی "جہالت" کی وجہ سے یہ سند "ضعیف" ہے۔
فنی نکتہ / علّت: ذہبی کو "التلخیص" میں وہم ہوا اور انہوں نے اسے "عبد اللہ بن یزید بن آدم" سمجھ لیا اور امام احمد کا قول (کہ ان کی احادیث موضوع ہیں) نقل کر دیا۔
وأخرجه الترمذي (3490) عن أبي كريب محمد بن العلاء، عن محمد بن فضيل، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ترمذی (3490) نے ابو کریب سے، انہوں نے محمد بن فضیل سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
وقال: هذا حديث حسن غريب.
درجۂ حدیث: انہوں نے کہا: یہ حدیث "حسن غریب" ہے۔
وقوله في آخره في داود: "كان أعبد البشر" صحيح لغيره، يشهد له حديث عبد الله بن عمرو بن العاص عند مسلم (1159) (182)، ففيه مرفوعًا: "صم صوم داود نبي الله، فإنه كان أعبد الناس".
درجۂ حدیث: اس کے آخر میں داؤد علیہ السلام کے بارے میں قول: "وہ انسانوں میں سب سے بڑے عابد تھے" یہ "صحیح لغیرہ" ہے۔ اس کا شاہد عبد اللہ بن عمرو کی حدیث (مسلم 1159) ہے، جس میں ہے: "داؤد کا روزہ رکھو، کیونکہ وہ لوگوں میں سب سے بڑے عابد تھے"۔