المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
مُعْجِزَةُ تَكْثِيرِ الطَّعَامِ عِنْدَ نِكَاحِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ - مَعَ زَيْنَبَ باب: نبی ﷺ کے حضرت زینب رضی اللہ عنہا سے نکاح کے موقع پر کھانے کے بڑھ جانے کا معجزہ
أخبرنا أبو زكريا العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، عن أبي عثمان، عن أنس بن مالك قال: لما تَزوَّج النبيُّ ﷺ زينبَ بَعَثَت أمُّ سُلَيم حَيْسًا في تَوْرٍ من حجارة، قال أنس: فقال ليَ النبي ﷺ: "اذهَبْ فَادْعُ مَن لَقِيتَ من المسلمين"، فذهبتُ فما رأيت أحدًا إلَّا دعوتُه، قال: ووَضَعَ النبيُّ ﷺ يدَه في الطعام ودعا فيه وقال ما شاءَ الله، قال: فجعلوا يأكلون ويَخرُجون، وبَقِيَت طائفةٌ في البيت، فجعل النبيُّ ﷺ يَستَحْيي منهم، وأطالوا الحديثَ؛ فخَرَجَ رسولُ الله ﷺ وتَرَكَهم في البيت، فأنزل الله: ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلَّا أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ إِلَى طَعَامٍ غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَاهُ﴾ يعني: غير مُتحيِّنِينَ، حتَّى بلغ ﴿ذَلِكُمْ أَطْهَرُ لِقُلُوبِكُمْ وَقُلُوبِهِنَّ﴾ [الأحزاب: 53] (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3564 - صحيحسیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی کریم ﷺ نے سیدہ زینب رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا تو (میری والدہ) ام سلیم رضی اللہ عنہا نے پتھر کے ایک برتن میں ”حیس“ (کھجور، گھی اور پنیر کا حلوہ) بھیجا، انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”جاؤ اور جو بھی مسلمان تمہیں ملے اسے (کھانے کی) دعوت دے دو،“ میں گیا اور جو بھی ملا اسے بلا لایا، نبی کریم ﷺ نے کھانے پر اپنا دستِ مبارک رکھا اور دعا فرمائی اور جو اللہ نے چاہا وہ پڑھا، پھر لوگ کھانا کھاتے اور نکل جاتے، یہاں تک کہ ایک گروہ گھر میں بیٹھا رہ گیا، نبی کریم ﷺ کو ان سے حیا آ رہی تھی جبکہ وہ طویل گفتگو میں مصروف تھے؛ پس رسول اللہ ﷺ باہر تشریف لے گئے اور انہیں گھر میں ہی چھوڑ دیا، تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلَّا أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ إِلَى طَعَامٍ غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَاهُ﴾ [سورة الاحزاب: 53] ”اے ایمان والو! نبی کے گھروں میں داخل نہ ہو جب تک تمہیں کھانے کے لیے اجازت نہ دی جائے اس حال میں کہ تم اس کے پکنے کا انتظار کرنے والے نہ ہو،“ یعنی وقت کے انتظار میں نہ بیٹھے رہو۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: اس کے راوی "ثقہ" ہیں، سوائے اس کے کہ "ابو عثمان" (جعد بن دینار یشکری) نے زینب رضی اللہ عنہا کے ولیمے میں ام سلیم کے "حیس" (ایک قسم کا حلوہ) بھیجنے کا ذکر کرنے میں تفرد اختیار کیا ہے۔ حالانکہ حضرت انس سے روایت کرنے والے تمام دیگر راویوں نے ذکر کیا ہے کہ نبی ﷺ نے اس ولیمے میں لوگوں کو روٹی اور گوشت کھلایا تھا۔
فنی نکتہ / علّت: اس اشکال کی طرف قاضی عیاض نے "اکمال المعلم" (4/ 602) میں اشارہ کیا ہے۔ ابن حجر کی "فتح الباری" (15/ 448-449) بھی دیکھیں۔
وأخرجه أحمد (20/ 12669)، ومسلم (1428) (95) من طريق عبد الرزاق، بهذا الإسناد. فاستدراك الحاكم له ذهول منه.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (20/ 12669) اور مسلم (1428-95) نے عبد الرزاق کے طریق سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔ لہٰذا حاکم کا استدراک ان کا "ذہول" (بھول) ہے۔
وأخرجه النسائي (11352) من طريق محمد بن ثور، عن معمر، به.
حوالہ / مصدر: اسے نسائی (11352) نے محمد بن ثور کے طریق سے، انہوں نے معمر سے اسی طرح تخریج کیا ہے۔
وأخرجه مسلم (1428) (94)، والترمذي (3218)، والنسائي (6584) من طريق جعفر بن سليمان، وعلَّقه البخاري (5163) عن إبراهيم بن طهمان، كلاهما عن أبي عثمان، به.
حوالہ / مصدر: اسے مسلم (1428-94)، ترمذی (3218)، اور نسائی (6584) نے جعفر بن سلیمان کے طریق سے، اور بخاری (5163) نے ابراہیم بن طہمان سے "معلقاً"، دونوں نے ابو عثمان سے تخریج کیا ہے۔
وأخرجه بنحوه أو بمعناه: أحمد (19/ 12023) و (20/ 12716) و (13025) و (21/ 13361) و (13538)، والبخاري (5166) و (5466) و (6238) و (6239) و (6271) و (7421)، ومسلم (1427) (87) و (1428)، والترمذي (3217) و (3219)، والنسائي (5379) و (6581) و (8869) و (11348) و (11352) و (11353) و (11356) و (11357)، وابن حبان (5145) و (5578) و (5579) من طرق عن أنس.
حوالہ / مصدر: اسے اسی طرح یا اس کے ہم معنی الفاظ کے ساتھ احمد، بخاری، مسلم، ترمذی، نسائی اور ابن حبان نے حضرت انس سے مختلف طرق سے تخریج کیا ہے۔
الحيس: طعام من أقِط وسمن وتمر.
نوٹ / توضیح: "الحیس": پنیر، گھی اور کھجور سے تیار کردہ کھانے کو کہتے ہیں۔