المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
إِنَّ الْمَلَائِكَةَ تُصَلِّي عَلَى الذَّاكِرِينَ اللَّهَ كَثِيرًا باب: بیشک فرشتے اللہ کا کثرت سے ذکر کرنے والوں پر درود بھیجتے ہیں
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن عوف الطائي، حدثنا عبد القُدُّوس بن الحجَّاج، حدثني صفوان بن عمرو، حدثني سُلَيم بن عامر قال: جاء رجل إلى أبي أُمامة فقال: يا أبا أُمامة، إني رأيتُ في منامي أنَّ الملائكة تصلِّي عليك كلَّما دخلتَ وكلَّما خرجتَ، وكلَّما قمتَ وكلَّما جلستَ، قال أبو أُمامة: اللهمَّ غَفْرًا، دَعُونا عنكم، وأنتم لو شئتُم صلَّت عليكم الملائكةُ، ثم قرأ: ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اذْكُرُوا اللَّهَ ذِكْرًا كَثِيرًا (41) وَسَبِّحُوهُ بُكْرَةً وَأَصِيلًا (42) هُوَ الَّذِي يُصَلِّي عَلَيْكُمْ وَمَلَائِكَتُهُ لِيُخْرِجَكُمْ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ وَكَانَ بِالْمُؤْمِنِينَ رَحِيمًا﴾ [الأحزاب: 41 - 43] (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3565 - على شرط مسلمسلیم بن عامر سے روایت ہے کہ ایک شخص سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: اے ابوامامہ! میں نے خواب میں دیکھا کہ جب بھی آپ (گھر میں) داخل ہوتے ہیں، باہر نکلتے ہیں، کھڑے ہوتے ہیں یا بیٹھتے ہیں تو فرشتے آپ پر درود (دعا) بھیجتے ہیں، سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اے اللہ! بخش دے، ہمیں (ایسی تعریفوں سے) دور رکھو، تم بھی اگر چاہو تو فرشتے تم پر درود بھیج سکتے ہیں،“ پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اذْكُرُوا اللَّهَ ذِكْرًا كَثِيرًا (41) وَسَبِّحُوهُ بُكْرَةً وَأَصِيلًا (42) هُوَ الَّذِي يُصَلِّي عَلَيْكُمْ وَمَلَائِكَتُهُ لِيُخْرِجَكُمْ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ وَكَانَ بِالْمُؤْمِنِينَ رَحِيمًا﴾ [سورة الاحزاب: 41-43] ”اے ایمان والو! اللہ کا کثرت سے ذکر کرو اور صبح و شام اس کی تسبیح بیان کرو، وہی ہے جو تم پر رحمت فرماتا ہے اور اس کے فرشتے تمہارے لیے دعا کرتے ہیں تاکہ وہ تمہیں اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جائے اور وہ مومنوں پر نہایت مہربان ہے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔
وأخرجه البيهقي في "دلائل النبوة" 7/ 25 - ومن طريقه ابن عساكر في "تاريخ دمشق" 24/ 66 - عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے بیہقی نے "دلائل النبوۃ" (7/ 25) میں، اور ان کے طریق سے ابن عساکر نے "تاریخ دمشق" (24/ 66) میں ابو عبد اللہ الحاکم سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔