حدیث نمبر: 3582
حدثنا محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا الحسين بن الفضل البَجَلي، حدثنا معاوية بن عمرو بن المهلَّب الأَزْدي، حدثنا أبو إسحاق الفَزَاري، عن سفيان الثَّوْري، عن حبيب بن أبي عَمْرة، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس قال: كان المسلمون يحبُّون أن تَظهَرَ الرومُ على فارسَ لأنهم أهلُ الكِتاب، وكان المشركون يحبُّون أن تظهرَ فارسُ على الرُّوم لأنهم أهلُ أوثان، فذَكَرَ ذلك المسلمون لأبي بكر الصِّدِّيق، فذَكَرَ ذلك أبو بكر للنبيِّ ﷺ، فقال له النبي ﷺ: "أمَا إنهم سيُهزَمُون"، فَذَكَرَ أبو بكر لهم ذلك فقالوا: اجعلْ بيننا وبينك أجَلًا، فإن ظَهَرُوا كان لك كذا وكذا، وإن ظَهَرْنا كان لنا كذا وكذا. فجَعَلَ بينهم أجَلَ خمسِ سنين، فلم يَظهَروا، فَذَكَرَ ذلك أبو بكر للنبي ﷺ فقال: "أَلَا جَعَلتَه - أُراه قال - دُونَ العَشَرة"، قال: فظَهَرَت الرومُ بعد ذلك، فذلك قولُه: ﴿الم (1) غُلِبَتِ الرُّومُ (2) فِي أَدْنَى الْأَرْضِ وَهُمْ مِنْ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُونَ﴾ قال: فغُلِبَت الرومُ ثم غَلَبَت بعدُ، ﴿لِلَّهِ الْأَمْرُ مِنْ قَبْلُ وَمِنْ بَعْدُ وَيَوْمَئِذٍ يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ (4) بِنَصْرِ اللَّهِ﴾. قال سفيان: وسمعتُ أنهم ظَهَروا يومَ بَدْر (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3540 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ مسلمان یہ چاہتے تھے کہ رومی اہل فارس پر غالب آ جائیں کیونکہ وہ اہلِ کتاب تھے، جبکہ مشرکین یہ چاہتے تھے کہ اہل فارس رومیوں پر غالب آ جائیں کیونکہ وہ بت پرست تھے، مسلمانوں نے اس بات کا تذکرہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے کیا اور انہوں نے نبی کریم ﷺ کو اس کی خبر دی، تو نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا: ”آگاہ رہو کہ وہ (اہل فارس) عنقریب مغلوب ہو جائیں گے،“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مشرکین سے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا: ”ہمارے اور اپنے درمیان ایک مدت طے کر لو، اگر وہ غالب آ گئے تو تمہیں اتنا اتنا مال ملے گا اور اگر ہم جیت گئے تو ہمیں اتنا ملے گا،“ چنانچہ انہوں نے پانچ سال کی مدت طے کر لی مگر اس دوران رومی غالب نہ آ سکے، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم ﷺ سے اس کا ذکر کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے یہ مدت دس سال سے کم (یعنی نو سال تک) کیوں نہ رکھی؟“ راوی کہتے ہیں: اس کے بعد رومی غالب آ گئے، اور یہی اللہ عزوجل کا یہ فرمان ہے: ﴿الم (1) غُلِبَتِ الرُّومُ (2) فِي أَدْنَى الْأَرْضِ وَهُمْ مِنْ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُونَ﴾ [سورة الروم: 1-3] یعنی رومی پہلے مغلوب ہوئے اور پھر بعد میں غالب آ گئے، ﴿لِلَّهِ الْأَمْرُ مِنْ قَبْلُ وَمِنْ بَعْدُ وَيَوْمَئِذٍ يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ (4) بِنَصْرِ اللَّهِ﴾ [سورة الروم: 4] سفیان کہتے ہیں: میں نے سنا ہے کہ وہ رومی (اہلِ فارس پر) عین جنگِ بدر والے دن غالب آئے تھے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3582
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،أبو إسحاق الفزاري: هو إبراهيم بن محمد بن الحارث.» [ترقيم الرساله 3582] [ترقيم الشركة 3561] [ترقيم العلميه 3540]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح. أبو إسحاق الفزاري: هو إبراهيم بن محمد بن الحارث.
درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔
نوٹ / توضیح: ابو اسحاق فزاری سے مراد ابراہیم بن محمد بن حارث ہیں۔
وأخرجه أحمد (4/ 2495) و (2769)، والترمذي (3193)، والنسائي (11325) من طريق معاوية بن عمرو الأزدي، بهذا الإسناد. وحسَّنه الترمذي.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (4/ 2495 و 2769)، ترمذی (3193)، اور نسائی (11325) نے معاویہ بن عمرو ازدی کے طریق سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے، اور ترمذی نے اسے "حسن" کہا ہے۔
وأخرج بعضه بنحوه الترمذي (3191) من طريق الزهري، عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة، عن ابن عبَّاس. وحسَّنه.
حوالہ / مصدر: اور اس کا کچھ حصہ اسی طرح ترمذی (3191) نے زہری کے طریق سے، انہوں نے عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ سے، انہوں نے ابن عباس سے تخریج کیا ہے، اور اسے "حسن" کہا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3582 سے ماخوذ ہے۔