حدیث نمبر: 3530
أخبرني أبو العبَّاس السَّيّاري، حدثنا محمد بن موسى بن حاتم (3)، حدثنا علي بن الحسن بن شَقِيق، أخبرنا الحسين بن واقد، حدثني يزيد النَّحْوي، أنَّ عِكرمةَ حدَّثه عن ابن عبَّاس قال: جاء أبو سفيان إلى رسول الله ﷺ فقال: يا محمدُ، أَنشُدُك اللهَ والرَّحِمَ، قد أَكَلْنا العِلْهِزَ - يعني الوَبَرَ والدمَ (4) - فأنزل الله ﷿: ﴿وَلَقَدْ أَخَذْنَاهُمْ بِالْعَذَابِ فَمَا اسْتَكَانُوا لِرَبِّهِمْ وَمَا يَتَضَرَّعُونَ﴾ [المؤمنون: 76] (5).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3488 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ابوسفیان رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور کہا: ”اے محمد! میں آپ کو اللہ کا اور قرابت داری کا واسطہ دیتا ہوں، ہم «العِلْهِزَ» (یعنی اون اور خون ملا کر) کھانے پر مجبور ہو گئے ہیں،“ تو اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿وَلَقَدْ أَخَذْنَاهُمْ بِالْعَذَابِ فَمَا اسْتَكَانُوا لِرَبِّهِمْ وَمَا يَتَضَرَّعُونَ﴾ [سورة المؤمنون: 76] ”اور یقیناً ہم نے انہیں عذاب میں پکڑا، پھر بھی وہ اپنے رب کے سامنے عاجزی نہ کرنے لگے اور نہ گریہ و زاری کرتے ہیں۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3530
درجۂ حدیث محدثین: حديث قوي
تخریج حدیث «حديث قوي، وهذا إسناد حسن من أجل محمد بن موسى بن حاتم، وقد توبع، والحسين ابن واقد صدوق لا بأس به.» [ترقيم الرساله 3530] [ترقيم الشركة 3509] [ترقيم العلميه 3488]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) تحرَّف "حاتم" في النسخ الخطية إلى: حكيم، وقد جاء على الصواب في بضعة عشر موضعًا من هذا الكتاب.
فنی نکتہ / علّت: (3) قلمی نسخوں میں "حاتم" کا نام تحریف ہو کر "حکیم" بن گیا ہے، حالانکہ اس کتاب میں دس سے زیادہ مقامات پر یہ (نام) درست آیا ہے۔
(4) لفظ "والدم" سقط من (ز) و (ص) و (ع)، وأثبتناه من (ب) و"التلخيص" ومن "دلائل النبوة" للبيهقي 2/ 329 حيث رواه عن المصنف بإسناده ومتنه.
فنی نکتہ / علّت: (4) لفظ "والدم" (اور خون) نسخہ (ز)، (ص) اور (ع) سے ساقط ہو گیا تھا، ہم نے اسے (ب)، "تلخیص" اور بیہقی کی "دلائل النبوۃ" (2/ 329) سے ثابت کیا ہے، جہاں انہوں نے اسے مصنف کے واسطے سے روایت کیا ہے۔
(5) حديث قوي، وهذا إسناد حسن من أجل محمد بن موسى بن حاتم، وقد توبع، والحسين ابن واقد صدوق لا بأس به.
درجۂ حدیث: (5) حدیث "قوی" ہے، اور یہ سند محمد بن موسیٰ بن حاتم کی وجہ سے "حسن" ہے، اور ان کی متابعت کی گئی ہے۔ اور حسین بن واقد "صدوق" (سچے) ہیں، ان میں کوئی حرج نہیں۔
وأخرجه النسائي (11289)، وابن حبان (967) من طريق علي بن الحسين بن واقد، عن أبيه، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے نسائی (11289) اور ابن حبان (967) نے علی بن حسین بن واقد کے طریق سے، اپنے والد سے، اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3530 سے ماخوذ ہے۔