حدیث نمبر: 3508
أخبرنا أبو بكر محمد بن عبد الله البزَّاز ببغداد، حدثنا محمد بن مَسلَمة الواسطي، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا سلَّام بن مِسْكين، عن عائذ الله بن عبد الله المُجاشِعي، عن أبي داود السَّبيعي، عن زيد بن أرقَمَ قال: قلنا: يا رسول الله، ما هذه الأضاحيُّ؟ قال: "سُنَّةُ أبيكم إبراهيمَ"، قال: قلنا: فما لنا منها؟ قال: "بكلِّ شَعرةٍ حَسَنةٌ"، قال: قلنا: يا رسول الله، فالصُّوفُ؟ قال: "بكلِّ شَعرةٍ من الصُّوف حَسَنةٌ" (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3467 - عائذ الله قال أبو حاتم منكر الحديث
حافظ طلحہ بابر

سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! یہ قربانیاں کیا ہیں؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ تمہارے باپ ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے،“ ہم نے عرض کیا: ”ان میں ہمارے لیے کیا اجر ہے؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جانور کے ہر بال کے بدلے ایک نیکی ہے،“ ہم نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! اور اون (کا کیا حکم ہے)؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اون کے ہر بال کے بدلے بھی ایک نیکی ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3508
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًّا
تخریج حدیث «إسناده ضعيف جدًّا، أبو داود السَّبيعي - وهو نُفيع بن الحارث الأعور - متروك الحديث، والراوي عنه - وهو عائذ الله - ضعيف، وكذا محمد بن مسلمة فيه ضعف لكنه متابع. وقد أعلَّه الذهبي في "التلخيص" بعائذ الله وأهمل إعلالَه بأبي داود السبيعي الأعور وهو آفته.» [ترقيم الرساله 3508] [ترقيم الشركة 3487] [ترقيم العلميه 3467]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) إسناده ضعيف جدًّا، أبو داود السَّبيعي - وهو نُفيع بن الحارث الأعور - متروك الحديث، والراوي عنه - وهو عائذ الله - ضعيف، وكذا محمد بن مسلمة فيه ضعف لكنه متابع. وقد أعلَّه الذهبي في "التلخيص" بعائذ الله وأهمل إعلالَه بأبي داود السبيعي الأعور وهو آفته.
درجۂ حدیث: (3) اس کی سند "انتہائی ضعیف" (ضعیف جداً) ہے۔
فنی نکتہ / علّت: ابو داود السبیعی (نفیع بن الحارث الاعور) "متروک الحدیث" ہے۔ عائذ اللہ "ضعیف" ہے، اور محمد بن مسلمہ میں بھی ضعف ہے مگر وہ متابع ہے۔ ذہبی نے "تلخیص" میں علت عائذ اللہ کو قرار دیا لیکن اصل آفت "ابو داود السبیعی" کو نظر انداز کر دیا۔
وأخرجه أحمد (32/ 19283) عن يزيد بن هارون، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (32/ 19283) نے یزید بن ہارون سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه ابن ماجه (3127) من طريق آدم بن أبي إياس، عن سلام بن مسكين، به.
حوالہ / مصدر: اسے ابن ماجہ (3127) نے آدم بن ابی ایاس کے طریق سے، سلام بن مسکین سے روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3508 سے ماخوذ ہے۔