حدیث نمبر: 3491
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا الحسن بن موسى الأَشيَب، حدثنا شَيْبان بن عبد الرحمن، عن قَتَادة. قال الصَّغَاني: وحدثنا رَوْح بن عُبَادة، حدثنا سعيد بن أبي عَرُوبة، عن قَتادة، عن الحسن، عن عِمران بن حُصَين: أنَّ رسول الله ﷺ قال وهو في بعض أسفاره، قد فاوَتَ بين أصحابه السَّيرُ، فرَفَعَ بهاتَين الآيتين صوتَه ﴿يَاأَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ إِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيمٌ (1) يَوْمَ تَرَوْنَهَا تَذْهَلُ كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّا أَرْضَعَتْ وَتَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَتَرَى النَّاسَ سُكَارَى وَمَا هُمْ بِسُكَارَى وَلَكِنَّ عَذَابَ اللَّهِ شَدِيدٌ﴾، فلما سمع ذلك أصحابُه حَثُّوا المَطِيَّ وعرفوا أنه عندَ قولٍ يقولُه، فلما تأشَّبُوا حولَه قال: "هل تدرونَ أيُّ يومٍ ذاكم؟ " قالوا: الله ورسوله أعلمُ، قال: "ذاك يومَ يُنادَى آدمُ فيناديهِ ربُّه فيقول: يا آدمُ، ابعَثْ بَعْثَ النارِ، فيقول: يا ربِّ، وما بعثُ النار؟ فيقول: من كلِّ ألفٍ تسعُ مئةٍ وتسعة وتسعون في النار وواحدٌ في الجنة"، قالوا: فأُبلِسُوا حتى ما أَوضَحُوا بضاحكةٍ، فلما رأى رسولُ الله ﷺ ذلك قال: "اعْمَلُوا وأَبشِروا، والذي نفسُ محمدٍ بيده إنكم لمعَ خَلِيقَتينِ ما كانتا مع شيءٍ إلَّا كَثَّرتاه: يأجوجَ ومأجوجَ، ومَن هَلَكَ من بني آدمَ وبني إبليسَ"، قال: فسَرَّى ذلك عن القوم، فقال: "اعمَلوا وأَبشِروا، فوالذي نفسُ محمدٍ بيده، ما أنتم في الناس إلَّا كالرَّقْمةِ في ذراع الدابَّة، أو كالشَّامةِ في جَنْب البعير" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، وأكثرُ أئمَّة البصرة على أنَّ الحسن قد سمع من عِمران، غير أنَّ الشيخين لم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3450 - قد مر تصحيحه
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنے کسی سفر میں تھے اور آپ کے صحابہ کے درمیان چلنے کی رفتار میں فرق (یعنی وہ آگے پیچھے بکھرے ہوئے) تھے، تب آپ ﷺ نے ان دو آیات کے ساتھ اپنی آواز بلند فرمائی: ﴿يَاأَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ إِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيمٌ (1) يَوْمَ تَرَوْنَهَا تَذْهَلُ كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّا أَرْضَعَتْ وَتَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَتَرَى النَّاسَ سُكَارَى وَمَا هُمْ بِسُكَارَى وَلَكِنَّ عَذَابَ اللَّهِ شَدِيدٌ﴾ [سورة الحج: 1-2] ”اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو، بے شک قیامت کا زلزلہ بہت بڑی چیز ہے۔ جس دن تم اسے دیکھو گے، ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے بچے کو بھول جائے گی، اور ہر حاملہ اپنا حمل گرا دے گی، اور تم لوگوں کو مدہوش دیکھو گے حالانکہ وہ نشے میں نہ ہوں گے، لیکن اللہ کا عذاب بہت سخت ہوگا۔“ جب آپ کے صحابہ نے یہ سنا تو انہوں نے اپنی سواریوں کو تیز کیا اور سمجھ گئے کہ آپ ﷺ کوئی اہم بات ارشاد فرمانے والے ہیں، پھر جب وہ آپ کے گرد جمع ہو گئے تو آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تم جانتے ہو کہ وہ کون سا دن ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ وہ دن ہے جب آدم علیہ السلام کو پکارا جائے گا، پس ان کا رب انہیں پکارے گا اور فرمائے گا: اے آدم! جہنم کا لشکر (الگ) نکال دو، وہ عرض کریں گے: اے رب! جہنم کا لشکر کیا ہے؟ اللہ فرمائے گا: ہر ایک ہزار میں سے 999 جہنم میں اور 1 جنت میں۔“ راوی بیان کرتے ہیں کہ یہ سن کر صحابہ اتنے غمزدہ اور خاموش ہو گئے کہ کسی کی ہنسی (مسکراہٹ) تک واضح نہ رہی، جب رسول اللہ ﷺ نے یہ کیفیت دیکھی تو فرمایا: ”نیک عمل کیے جاؤ اور خوش ہو جاؤ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! تم ایسی دو مخلوقوں کے ساتھ ہو کہ وہ جس گروہ میں بھی شامل ہوتی ہیں اسے کثرت میں بدل دیتی ہیں: یاجوج اور ماجوج، اور تمہارے ساتھ وہ بھی ہیں جو بنی آدم اور ابلیس کی اولاد میں سے ہلاک ہو چکے ہیں۔“ راوی کہتے ہیں: اس بات سے لوگوں کا غم دور ہو گیا، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”نیک عمل کرو اور خوش ہو جاؤ، پس اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! تم لوگوں کے درمیان ایسے ہو جیسے کسی جانور کے بازو پر ایک نشان یا اونٹ کے پہلو پر ایک تل ہوتا ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور بصرہ کے اکثر ائمہ اس بات پر ہیں کہ حسن بصری نے عمران بن حصین سے سماع کیا ہے، تاہم شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3491
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، رجاله ثقات، وقد سلف عند المصنف برقم (78) من طريقين عن الحسن الأشيب، وانظر تمام تخريجه والكلام عليه هناك.» [ترقيم الرساله 3491] [ترقيم الشركة 3470] [ترقيم العلميه 3450]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) حديث صحيح، رجاله ثقات، وقد سلف عند المصنف برقم (78) من طريقين عن الحسن الأشيب، وانظر تمام تخريجه والكلام عليه هناك.
درجۂ حدیث: (1) حدیث "صحیح" ہے، راوی "ثقہ" ہیں۔ یہ مصنف کے ہاں (78) پر حسن الاشیب سے گزر چکی ہے۔ تفصیل وہاں دیکھیں۔
وسيأتي برقم (8910) من طريق إبراهيم بن عبد الله السعدي عن روح بن عبادة، وقرن بسعيد بن أبي عروبة هناك هشامًا الدستوائي
نوٹ / توضیح: یہ (8910) پر ابراہیم بن عبد اللہ السعدی عن روح بن عبادہ آئے گی، اور وہاں سعید بن ابی عروبہ کے ساتھ "ہشام الدستوائی" کو ملایا گیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3491 سے ماخوذ ہے۔