المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
صُعُودُ عَلِيٍّ عَلَى مَنْكِبِ رَسُولِ اللَّهِ وَإِلْقَاءُ الصَّنَمِ عَنْ سَقْفِ الْكَعْبَةِ باب: سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا رسول اللہ ﷺ کے کندھوں پر چڑھ کر کعبہ کی چھت سے بت گرانا
أخبرنا أبو الفضل الحسن بن يعقوب بن يوسف العَدْل، أخبرنا يحيى بن أبي طالب، حدثنا عبد الوهاب بن عطاء، أخبرنا داود بن أبي هند، عن عِكْرمة، عن ابن عبَّاس قال: نَزَلَ القرآنُ جُمْلةً إلى السماءِ الدنيا، ثم نَزَلَ بعدَ ذلك في عشرينَ سنةً، وقال ﷿: ﴿وَلَا يَأْتُونَكَ بِمَثَلٍ إِلَّا جِئْنَاكَ بِالْحَقِّ وَأَحْسَنَ تَفْسِيرًا﴾ [الفرقان: 33]، قال: ﴿وَقُرْآنًا فَرَقْنَاهُ لِتَقْرَأَهُ عَلَى النَّاسِ عَلَى مُكْثٍ وَنَزَّلْنَاهُ تَنْزِيلًا﴾ [الإسراء: 106] (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. [18 - ومن تفسير سورة الكهف] ﷽
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3390 - صحيحسیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”قرآن مجید ایک ہی دفعہ (لوح محفوظ سے) آسمانِ دنیا کی طرف نازل کیا گیا، پھر اس کے بعد بیس سال کے عرصے میں (تھوڑا تھوڑا کر کے) نازل ہوا۔“ اور اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَلَا يَأْتُونَكَ بِمَثَلٍ إِلَّا جِئْنَاكَ بِالْحَقِّ وَأَحْسَنَ تَفْسِيرًا﴾ ”اور یہ لوگ آپ کے پاس جو بھی کوئی مثال لائیں گے، ہم آپ کے پاس حق اور اس سے بہتر تفسیر لے آئیں گے۔“ [سورة الفرقان: 33] کے متعلق انہوں نے فرمایا کہ اس سے مراد یہ آیت ہے: ﴿وَقُرْآنًا فَرَقْنَاهُ لِتَقْرَأَهُ عَلَى النَّاسِ عَلَى مُكْثٍ وَنَزَّلْنَاهُ تَنْزِيلًا﴾ ”اور ہم نے قرآن کو تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کیا تاکہ آپ اسے لوگوں کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھ کر سنائیں، اور ہم نے اسے بتدریج نازل کیا ہے۔“ [سورة الإسراء: 106]
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: (1) اس کی سند "قوی" ہے۔ یہ پہلے نمبر (2915) پر گزر چکی ہے۔