حدیث نمبر: 3430
أخبرنا أبو الفضل الحسن بن يعقوب بن يوسف العَدْل، أخبرنا يحيى بن أبي طالب، حدثنا عبد الوهاب بن عطاء، أخبرنا داود بن أبي هند، عن عِكْرمة، عن ابن عبَّاس قال: نَزَلَ القرآنُ جُمْلةً إلى السماءِ الدنيا، ثم نَزَلَ بعدَ ذلك في عشرينَ سنةً، وقال ﷿: ﴿وَلَا يَأْتُونَكَ بِمَثَلٍ إِلَّا جِئْنَاكَ بِالْحَقِّ وَأَحْسَنَ تَفْسِيرًا﴾ [الفرقان: 33]، قال: ﴿وَقُرْآنًا فَرَقْنَاهُ لِتَقْرَأَهُ عَلَى النَّاسِ عَلَى مُكْثٍ وَنَزَّلْنَاهُ تَنْزِيلًا﴾ [الإسراء: 106] (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. [18 - ومن تفسير سورة الكهف] ﷽
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3390 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”قرآن مجید ایک ہی دفعہ (لوح محفوظ سے) آسمانِ دنیا کی طرف نازل کیا گیا، پھر اس کے بعد بیس سال کے عرصے میں (تھوڑا تھوڑا کر کے) نازل ہوا۔“ اور اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَلَا يَأْتُونَكَ بِمَثَلٍ إِلَّا جِئْنَاكَ بِالْحَقِّ وَأَحْسَنَ تَفْسِيرًا﴾ ”اور یہ لوگ آپ کے پاس جو بھی کوئی مثال لائیں گے، ہم آپ کے پاس حق اور اس سے بہتر تفسیر لے آئیں گے۔“ [سورة الفرقان: 33] کے متعلق انہوں نے فرمایا کہ اس سے مراد یہ آیت ہے: ﴿وَقُرْآنًا فَرَقْنَاهُ لِتَقْرَأَهُ عَلَى النَّاسِ عَلَى مُكْثٍ وَنَزَّلْنَاهُ تَنْزِيلًا﴾ ”اور ہم نے قرآن کو تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کیا تاکہ آپ اسے لوگوں کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھ کر سنائیں، اور ہم نے اسے بتدریج نازل کیا ہے۔“ [سورة الإسراء: 106]
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3430
درجۂ حدیث محدثین: إسناده قوي.
تخریج حدیث «إسناده قوي. وقد سلف برقم (2915) من طريق يزيد بن هارون عن داود بن أبي هند.» [ترقيم الرساله 3430] [ترقيم الشركة 3410] [ترقيم العلميه 3390]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده قوي. وقد سلف برقم (2915) من طريق يزيد بن هارون عن داود بن أبي هند.
درجۂ حدیث: (1) اس کی سند "قوی" ہے۔ یہ پہلے نمبر (2915) پر گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3430 سے ماخوذ ہے۔