المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
شَرْحُ مَعْنَى : ( وَنَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ ) الْآيَةَ باب: آیت “اور ہم ان کے دلوں میں جو کینہ ہوگا نکال دیں گے” کے معنی کی وضاحت
حدیث نمبر: 3390
حدثني محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا السَّرِيُّ بن خُزَيمة، حدثنا أبو نُعيم، حدثنا سفيان، حدثنا سِمَاك بن حَرْب، عن سعيد بن جُبَير، عن ابن عبَّاس ﴿إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً﴾ الحجر: 77]، قال: أمَا تَرَى الرجلَ يُرسِل بخاتَمِه إلى أهله فيقول: هاتُوا كذا وكذا، فإذا رأَوه عَرَفُوا أنه حقٌّ (3).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3350 - على شرط مسلمحافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً﴾ ”بے شک اس میں ایک نشانی ہے۔“ [سورة الحجر: 77] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”کیا تم نہیں دیکھتے کہ جب کوئی شخص اپنی انگوٹھی (نشانی کے طور پر) اپنے گھر والوں کی طرف بھیجتا ہے اور کہتا ہے کہ فلاں فلاں چیز دے دو، تو جب وہ اسے دیکھتے ہیں تو جان لیتے ہیں کہ یہ سچ ہے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) إسناده حسن من أجل سماك بن حرب. أبو نعيم: هو الفضل بن دُكين، وسفيان: هو الثوري. وأخرجه الطبري في "تفسيره" 14/ 47، وكذا ابن أبي حاتم 8/ 2751 من طريق أبي أسامة، عن سفيان الثوري، بهذا الإسناد - وزاد فيه قبل قوله "أما ترى الرجل": علامة؛ يعني في تفسير قوله: "لآيةً".
درجۂ حدیث: سماک بن حرب کی وجہ سے اس کی سند حسن ہے۔
نوٹ / توضیح: ابونعیم: یہ فضل بن دکین ہیں، اور سفیان: یہ ثوری ہیں۔
حوالہ / مصدر: اسے طبری نے "تفسیر" (14/ 47) اور ابن ابی حاتم (8/ 2751) نے ابو اسامہ کے طریق سے، سفیان ثوری سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
تفصیلِ روایت: اور اس میں "کیا تم آدمی کو نہیں دیکھتے" سے پہلے "علامہ" (نشانی) کا لفظ بڑھایا ہے، یعنی "لآیۃ" کی تفسیر میں۔
درجۂ حدیث: سماک بن حرب کی وجہ سے اس کی سند حسن ہے۔
نوٹ / توضیح: ابونعیم: یہ فضل بن دکین ہیں، اور سفیان: یہ ثوری ہیں۔
حوالہ / مصدر: اسے طبری نے "تفسیر" (14/ 47) اور ابن ابی حاتم (8/ 2751) نے ابو اسامہ کے طریق سے، سفیان ثوری سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
تفصیلِ روایت: اور اس میں "کیا تم آدمی کو نہیں دیکھتے" سے پہلے "علامہ" (نشانی) کا لفظ بڑھایا ہے، یعنی "لآیۃ" کی تفسیر میں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3390 سے ماخوذ ہے۔