حدیث نمبر: 339
حدثناه أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا العباس بن الوليد بن مَزْيَد البَيروتي، حدثنا محمد بن شعيب بن شابُور، حدثني النُّعمان بن المنذر، عن مكحول قال: وَجِعَ معاذُ بن جبل يومًا وعنده يزيد بن عَمِيرة الزُّبيدي، فبكى عليه يزيدُ، فقال له معاذ: ما يُبكِيكَ؟ قال: يُبكِيني ما كنتُ أسألُك كلَّ يومٍ، يَنقطِعُ عني، فقال معاذ: إنَّ العلم والإيمان بَشَاشَتان، قُمْ فالتمِسْهما، قال يزيد: وعندَ مَن أَلتمسُهما؟ فقال معاذ: عند أربعةِ نفرٍ عند عُويمِر أبي الدرداء، وعند عبد الله بن مسعود، وعند سلمان الفارسي، وعند عبد الله بن سَلَام، فإنه كان يقال: "إنه عاشرُ عَشَرةٍ في الجنة"، قال يزيد: فقلت: وعند عمر بن الخَطَّاب؟ فقال: لا تَسألْه عن شيء، فإنه عنك مشغول (2). وقد روى الزُّهْريُّ عن أبي إدريسَ طَرَفًا من هذا الحديث:
حافظ طلحہ بابر

مکحول بیان کرتے ہیں کہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ایک دن بیمار ہوئے جبکہ ان کے پاس یزید بن عمیرہ زبیدی موجود تھے، یزید ان کی حالت دیکھ کر رونے لگے، معاذ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: تم کیوں رو رہے ہو؟ انہوں نے کہا: میں اس علم کے منقطع ہونے پر رو رہا ہوں جو میں آپ سے روزانہ حاصل کیا کرتا تھا، معاذ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: علم اور ایمان تو خوشبو کی طرح ہیں، اٹھو اور انہیں تلاش کرو، یزید نے پوچھا: میں انہیں کن کے پاس تلاش کروں؟ معاذ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: چار افراد کے پاس؛ عویمر ابو الدرداء، عبداللہ بن مسعود، سلمان فارسی اور عبداللہ بن سلام کے پاس، کیونکہ ان کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ ”وہ جنت کے دس خوش نصیبوں میں سے دسویں ہیں۔“ یزید نے پوچھا: اور عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ؟ انہوں نے کہا: ان سے کسی چیز کے بارے میں (اب) سوال نہ کرو کیونکہ وہ تمہارے کاموں (خلافت کی ذمہ داریوں) میں مصروف ہیں۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب العلم / حدیث: 339
درجۂ حدیث محدثین: صحيح بما قبله
تخریج حدیث «صحيح بما قبله، وهذا إسناد منقطع، مكحول لم يدرك معاذ بن جبل يقينًا، ويغلب على ظننا أنه لم يدرك يزيد بن عميرة أيضًا فهو تابعي كبير مخضرم» [ترقيم الرساله 339] [ترقيم الشركة 334]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) صحيح بما قبله، وهذا إسناد منقطع، مكحول لم يدرك معاذ بن جبل يقينًا، ويغلب على ظننا أنه لم يدرك يزيد بن عميرة أيضًا فهو تابعي كبير مخضرم.
درجۂ حدیث: پچھلی روایات کے شاہد سے یہ "صحیح" ہے، لیکن یہ سند "منقطع" (ٹوٹی ہوئی) ہے۔
فنی نکتہ / علّت: امام مکحول کا حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے ملاقات نہ ہونا یقینی ہے، اور غالب گمان یہ ہے کہ انہوں نے یزید بن عمیرہ کو بھی نہیں پایا کیونکہ وہ ایک کبار تابعی اور مخضرم (وہ شخص جس نے جاہلیت اور اسلام دونوں پائے مگر نبی ﷺ کو نہ دیکھ سکا) تھے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 339 سے ماخوذ ہے۔