حدیث نمبر: 3377
أخبرنا أبو زكريا العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق ابن إبراهيم، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا الثَّوْري، عن أبي إسحاق، عن أبي الأحوَص، عن عبد الله، في قوله ﷿: ﴿فَرَدُّوا أَيْدِيَهُمْ فِي أَفْوَاهِهِمْ﴾ قال عبد الله: كذا؛ ورَدَّ يدَه في فيهِ وعَضَّ يدَه، وقال: عَضُّوا على أصابعِهم غَيظًا (1).
هذا حديث صحيح بالزِّيادة على شرطهما.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3337 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿فَرَدُّوا أَيْدِيَهُمْ فِي أَفْوَاهِهِمْ﴾ کے متعلق روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”اس طرح“ اور انہوں نے اپنا ہاتھ اپنے منہ میں ڈالا اور اسے کاٹا، اور فرمایا: ”انہوں نے غصے سے اپنی انگلیاں چبا لیں۔“
یہ حدیث اس اضافے کے ساتھ شیخین کی شرط پر صحیح ہے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3377
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح.» [ترقيم الرساله 3377] [ترقيم الشركة 3357] [ترقيم العلميه 3337]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
وهو في "تفسير عبد الرزاق" 1/ 341، ومن طريق عبد الرزاق أخرجه أيضًا الطبري 13/ 188.
حوالہ / مصدر: یہ "تفسیر عبدالرزاق" (1/ 341) میں ہے، اور عبدالرزاق کے طریق سے اسے طبری (13/ 188) نے بھی روایت کیا ہے۔
وأخرجه الطبري 13/ 188، والطبراني في "المعجم الكبير" (9118) و (9119) من طرق عن سفيان الثوري، به. وانظر ما قبله.
حوالہ / مصدر: اسے طبری (13/ 188) اور طبرانی (المعجم الکبیر: 9118، 9119) نے سفیان ثوری سے مختلف طریقوں سے روایت کیا ہے۔ اور جو اس سے پہلے ہے اسے دیکھ لیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3377 سے ماخوذ ہے۔