المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
شَرْحُ مَعْنَى : ( مُسْتَقَرَّهَا وَمُسْتَوْدَعَهَا ) باب: مستقر اور مستودع کے معنی کی وضاحت
حدیث نمبر: 3345
أخبرني أبو بكر الشافعي، حدثنا إسحاق بن الحسن، حدثنا أبو حُذَيفة، حدثنا سفيان، عن الأعمش، عن المِنهال بن عمرو، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس: أنه سُئِلَ عن قوله ﷿: ﴿وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ﴾ [هود: 7]، على أيِّ شيء كان الماءُ؟ قال: على مَتْن الرِّيح (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3306 - على شرط البخاري ومسلمحافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ان سے اللہ عزوجل کے اس فرمان: ﴿وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ﴾ [سورة هود: 7] ”اور اس کا عرش پانی پر تھا“ کے بارے میں پوچھا گیا کہ پانی کس چیز پر (ٹکا ہوا) تھا؟ تو انہوں نے فرمایا: ”تیز ہوا کی سطح پر“۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده قوي. وهو مكرر (3332).
درجۂ حدیث: اس کی سند قوی ہے، اور یہ رقم (3332) پر مکرر ہے۔
درجۂ حدیث: اس کی سند قوی ہے، اور یہ رقم (3332) پر مکرر ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3345 سے ماخوذ ہے۔