المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
شَأْنُ نُزُولِ آيَةِ : ( وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْيَتَامَى ) باب: آیت “اور وہ تم سے یتیموں کے بارے میں سوال کرتے ہیں” کے نازل ہونے کا سبب
أخبرنا أبو زكريا العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق ابن إبراهيم، أخبرنا جَرِير، عن عطاء بن السائب، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس قال: لما أَنزل الله: ﴿وَلَا تَقْرَبُوا مَالَ الْيَتِيمِ إِلَّا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ﴾ [الأنعام:152]، و ﴿إِنَّ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ أَمْوَالَ الْيَتَامَى ظُلْمًا إِنَّمَا يَأْكُلُونَ فِي بُطُونِهِمْ نَارًا وَسَيَصْلَوْنَ سَعِيرًا﴾ [النساء: 10]، انطَلَقَ من كان عنده يتيمٌ فعَزَلَ طعامَه من طعامِه، وشرابَه من شرابِه، فجعل يَفضُلُ الشيءُ من طعامه فيُحبَسُ له حتى يأكلَه أو يَفسُدَ، فاشتَدَّ ذلك عليهم، فذكروا ذلك لرسول الله ﷺ، فأنزل الله ﷿: ﴿وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْيَتَامَى قُلْ إِصْلَاحٌ لَهُمْ خَيْرٌ وَإِنْ تُخَالِطُوهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ﴾ [البقرة: 220]، فخَلَطُوا طعامَهم بطعامِهم، وشرابَهم بشرابِهم (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں: ﴿وَلَا تَقْرَبُوا مَالَ الْيَتِيمِ إِلَّا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ﴾ [سورة الأنعام: 152] اور ﴿إِنَّ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ أَمْوَالَ الْيَتَامَى ظُلْمًا إِنَّمَا يَأْكُلُونَ فِي بُطُونِهِمْ نَارًا وَسَيَصْلَوْنَ سَعِيرًا﴾ [سورة النساء: 10]، تو جس کے پاس بھی کوئی یتیم تھا اس نے اپنا کھانا پینا اس کے کھانے پینے سے الگ کر لیا، یہاں تک کہ اس (یتیم) کے کھانے میں سے کچھ بچ جاتا تو اسے اس کے لیے بچا کر رکھا جاتا یہاں تک کہ یا تو وہ اسے کھا لیتا یا وہ خراب ہو جاتا، یہ صورتحال ان پر بہت گراں گزری تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے اس کا ذکر کیا، تب اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْيَتَامَى قُلْ إِصْلَاحٌ لَهُمْ خَيْرٌ وَإِنْ تُخَالِطُوهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ﴾ [سورة البقرة: 220]، چنانچہ (اس کے بعد) انہوں نے اپنا کھانا پینا ان کے کھانے پینے کے ساتھ ملا لیا۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: یہ حدیث حسن ہے، اور یہ رقم (3223) پر مکرر (دوبارہ) آئی ہے۔