المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
أُحِلَّتْ أَشْيَاءُ وَحُرِّمَتْ أَشْيَاءُ وَمَا سَكَتَ عَنْهُ فَهُوَ عَفْوٌ باب: کچھ چیزیں حلال کی گئیں، کچھ حرام کی گئیں، اور جن پر خاموشی اختیار کی گئی وہ معاف ہیں
حدیث نمبر: 3277
حدثنا بكر بن محمد الصَّيرَفي بمَرْو، حدثنا عبد الصمد بن الفضل، حدثنا مالك بن إسماعيل النَّهْدي، حدثنا إسرائيل، عن أبي إسحاق، عن عبد الله بن خَليفة قال: سمعت ابن عبَّاس يقول: إِنَّ في الأنعام آياتٍ مُحكَماتٍ هُنَّ أُمُّ الكتاب، ثم قرأ: ﴿قُلْ تَعَالَوْا أَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ عَلَيْكُمْ﴾ إلى آخر الآية [الأنعام: 151] (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3238 - صحيححافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”یقیناً سورہ انعام میں ایسی محکم آیات ہیں جو ام الکتاب (اصلِ دین) ہیں“، پھر انہوں نے یہ آیت پڑھی: ﴿قُلْ تَعَالَوْا أَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ عَلَيْكُمْ﴾ ”آپ فرما دیں کہ آؤ میں تمہیں وہ باتیں پڑھ کر سناؤں جو تمہارے رب نے تم پر حرام کی ہیں“ (آخر تک) [سورة الأنعام: 151]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده فيه لِين، كما سبق بيانه عند المصنف برقم (3175).
درجۂ حدیث: اس کی سند میں "لین" (یعنی کمزوری) ہے، جیسا کہ مصنف کے ہاں رقم (3175) کے تحت اس کی وضاحت گزر چکی ہے۔
درجۂ حدیث: اس کی سند میں "لین" (یعنی کمزوری) ہے، جیسا کہ مصنف کے ہاں رقم (3175) کے تحت اس کی وضاحت گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3277 سے ماخوذ ہے۔