المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
تَفْسِيرُ سُورَةِ الْمَائِدَةِ - الْمَائِدَةُ آخِرُ سُورَةٍ نَزَلَتْ باب: سورۂ مائدہ کی تفسیر — سورۂ مائدہ آخری نازل ہونے والی سورت ہے
حدیث نمبر: 3249
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدثنا بَحْر بن نصر الخَوْلاني، قال: قُرئَ على عبد الله بن وهب: أخبرك معاويةُ بن صالح، عن أبي الزاهريَّة، عن جُبير بن نُفير قال: حَجَجتُ فدخلتُ على عائشة، فقالت لي: يا جبيرُ، تقرأُ المائدة؟ فقلت: نعم، فقالت: أمَا إنها آخرُ سورة نزلت، فما وجدتُم فيها من حلالٍ، فاستَحِلُّوه، وما وجدتُم فيها من حرامٍ، فحرِّموه (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3210 - على شرط البخاري ومسلمحافظ طلحہ بابر
سیدنا جبیر بن نفیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حج کیا اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا، انہوں نے مجھ سے پوچھا: اے جبیر! کیا تم سورہ مائدہ پڑھتے ہو؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں، تو انہوں نے فرمایا: ”خبردار! یہ آخری سورت ہے جو نازل ہوئی، پس اس میں جس چیز کو تم حلال پاؤ اسے حلال سمجھو اور جس چیز کو حرام پاؤ اسے حرام جانو۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح. أبو الزاهرية: هو حُدَير بن كُريب.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: ابو الزاہریہ سے مراد ’حدیر بن کریب‘ ہیں۔
وأخرجه أحمد 42/ (25547)، والنسائي (11073) من طريق عبد الرحمن بن مهدي، عن معاوية بن صالح، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے احمد نے 42/ (25547) اور نسائی نے (11073) میں عبدالرحمن بن مہدی کے طریق سے، انہوں نے معاویہ بن صالح سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: ابو الزاہریہ سے مراد ’حدیر بن کریب‘ ہیں۔
وأخرجه أحمد 42/ (25547)، والنسائي (11073) من طريق عبد الرحمن بن مهدي، عن معاوية بن صالح، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے احمد نے 42/ (25547) اور نسائی نے (11073) میں عبدالرحمن بن مہدی کے طریق سے، انہوں نے معاویہ بن صالح سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3249 سے ماخوذ ہے۔