المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
قصة إسلام النجاشي وغلبة وفد المسلمين على الكافرين عنده باب: نجاشی کے اسلام قبول کرنے اور اس کے دربار میں مسلمانوں کے وفد کے غالب آنے کا واقعہ
أخبرني الشيخ الفقيه أبو الوليد، حدثنا الحسن بن سفيان، حدثنا إسحاق بن إبراهيم وفيَّاض بن زهير قالا: حدثنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، عن الزُّهري، عن أبي سَلَمة بن عبد الرحمن قال: جاء ابنَ عبَّاس رجلٌ فقال: رجل تُوفِّي وترك ابنتَه وأختَه لأبيه وأمه، فقال: للابنة النصفُ وليس للأخت شيءٌ، ما بقي فهو لعَصَبَته، فقال له رجل: فإنَّ عمر بن الخطَّاب قد قَضَى بغير ذلك: جعل للابنة النصفَ وللأخت النصفَ، فقال ابن عبَّاس: أنتم أعلمُ أم الله؟ قال مَعمَر: فلم أدْرِ ما وجهُ ذلك حتى لَقِيتُ ابنَ طاووس، فذكرتُ له حديث الزهري، فقال: أخبرني أَبي: أنه سمع ابنَ عبَّاس يقول: قال الله: ﴿إِنِ امْرُؤٌ هَلَكَ لَيْسَ لَهُ وَلَدٌ وَلَهُ أُخْتٌ فَلَهَا نِصْفُ مَا تَرَكَ﴾ [النساء: 176]، قال ابن عبَّاس: فقلتم أنتم: لها النصفُ وإن كان له ولدٌ! (1)
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. [5 - سورة المائدة] ﷽
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3209 - على شرط البخاري ومسلمسیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص ان کے پاس آیا اور کہا: ایک شخص فوت ہو گیا ہے اور اس نے اپنی ایک بیٹی اور ایک (سگی یا علاتی) بہن چھوڑی ہے؟ انہوں نے فرمایا: ”بیٹی کے لیے نصف ہے اور بہن کے لیے کچھ نہیں، جو باقی بچے گا وہ اس کے (دیگر) عصبات کا ہے“۔ اس پر ایک شخص نے ان سے کہا کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے تو اس کے برعکس فیصلہ فرمایا تھا کہ بیٹی کے لیے نصف اور بہن کے لیے نصف رکھا تھا، تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”تم زیادہ جانتے ہو یا اللہ؟“ معمر کہتے ہیں: مجھے اس کی وجہ سمجھ نہ آئی یہاں تک کہ میں ابن طاؤس سے ملا، میں نے ان سے زہری کی یہ حدیث ذکر کی تو انہوں نے بتایا: مجھے میرے والد نے خبر دی کہ انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿إِنِ امْرُؤٌ هَلَكَ لَيْسَ لَهُ وَلَدٌ وَلَهُ أُخْتٌ فَلَهَا نِصْفُ مَا تَرَكَ﴾ ”اگر کوئی ایسا مرد فوت ہو جائے جس کی اولاد نہ ہو اور اس کی ایک بہن ہو، تو اس کے لیے اس کے ترکے کا نصف ہے“ [سورة النساء: 176]، ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”جبکہ تم لوگ کہتے ہو کہ اس (بہن) کے لیے نصف ہے خواہ اس (فوت ہونے والے) کی اولاد ہی کیوں نہ ہو!“۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: اسحاق بن ابراہیم سے مراد ’ابن راہویہ‘ ہیں۔
وأخرجه البيهقي 6/ 233 عن أبي عبد الله محمد بن عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد. وقال البيهقي: والمراد بالولد هاهنا الابن.
حوالہ / مصدر: اسے بیہقی نے 6/ 233 میں ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ الحاکم سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔ اور بیہقی نے فرمایا: یہاں ’ولد‘ سے مراد بیٹا (ابن) ہے۔
وهو في "مصنف عبد الرزاق" (19023)، ومن طريقه ابن المنذر في "الأوسط" (6849).
حوالہ / مصدر: یہ "مصنف عبدالرزاق" (19023) میں ہے، اور انہی کے طریق سے ابن المنذر نے "الأوسط" (6849) میں تخریج کیا ہے۔
وسيأتي برقم (8178) من طريق محمد بن نصر عن إسحاق بن إبراهيم.
تفصیلِ روایت: اور یہ آگے نمبر (8178) پر محمد بن نصر عن اسحاق بن ابراہیم کے طریق سے آئے گا۔