المستدرك على الصحيحين
كتاب العلم— علم کا بیان
خُطْبَتُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ باب: رسولُ اللہ ﷺ کا حجۃ الوداع کے موقع پر خطبہ۔
حدیث نمبر: 324
أخبرنا أبو محمد عبد الله بن إسحاق بن الخُراساني العَدْل ببغداد، حدثنا يحيى بن جعفر بن الزِّبْرقان، حدثنا أبو داود سليمان بن داود، حدثنا حمَّاد بن سَلَمة، عن ثابت، عن أنس بن مالك قال: كان أخَوانِ على عهد النبي ﷺ، فكان أحدهما يأتي النبيَّ ﷺ والآخر يَحتَرِفُ، فشَكَا المحتَرِفُ أخاه إلى النبي ﷺ، فقال: "لعلَّكَ تُرزَقُ به" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم ورواته عن آخرهم أثبات ثِقات، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 320 - على شرط مسلمحافظ طلحہ بابر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کے عہدِ مبارک میں دو بھائی تھے، ان میں سے ایک (علم حاصل کرنے کے لیے) نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر رہتا تھا اور دوسرا محنت مزدوری کرتا تھا، تو محنت کرنے والے نے اپنے بھائی کی شکایت نبی کریم ﷺ سے کی (کہ وہ کام میں ہاتھ نہیں بٹاتا)، آپ ﷺ نے فرمایا: ”شاید تمہیں اس (بھائی کی برکت) سے ہی رزق دیا جا رہا ہو۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے اور اس کے تمام راوی پختہ اور ثقہ ہیں، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل ابن الخراساني شيخ المصنف، فقد روى عنه الدارقطني وغيره، وقال الدارقطني: فيه لين، كما في "سؤالات السهمي له" (349)، وقال الذهبي في "الميزان": صدوق. قلنا: وهو متابع.
درجۂ حدیث: حدیث "صحیح" ہے، اور یہ سند مصنف کے شیخ "ابن الخراسانی" کی وجہ سے "حسن" ہے، جن کے بارے میں دارقطنی نے معمولی نرمی (لین) کی بات کی ہے مگر امام ذہبی نے انہیں "صدوق" (سچا) کہا ہے، نیز ان کی متابعت بھی موجود ہے۔
أخرجه الترمذي (2345) عن محمد بن بشار، عن أبي داود سليمان بن داود الطيالسي، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام ترمذی (2345) نے محمد بن بشار عن ابی داود الطیالسی (سلیمان بن داود) کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وقال الترمذي - كما في بعض النسخ -: حديث حسن صحيح.
درجۂ حدیث: بعض نسخوں کے مطابق امام ترمذی نے اسے "حسن صحیح" قرار دیا ہے۔
درجۂ حدیث: حدیث "صحیح" ہے، اور یہ سند مصنف کے شیخ "ابن الخراسانی" کی وجہ سے "حسن" ہے، جن کے بارے میں دارقطنی نے معمولی نرمی (لین) کی بات کی ہے مگر امام ذہبی نے انہیں "صدوق" (سچا) کہا ہے، نیز ان کی متابعت بھی موجود ہے۔
أخرجه الترمذي (2345) عن محمد بن بشار، عن أبي داود سليمان بن داود الطيالسي، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام ترمذی (2345) نے محمد بن بشار عن ابی داود الطیالسی (سلیمان بن داود) کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وقال الترمذي - كما في بعض النسخ -: حديث حسن صحيح.
درجۂ حدیث: بعض نسخوں کے مطابق امام ترمذی نے اسے "حسن صحیح" قرار دیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 324 سے ماخوذ ہے۔