حدیث نمبر: 3237
أخبرني أبو بكر بن أبي نصر المروَزي، حدثنا عبد العزيز بن حاتم، حدثنا عبد الرحمن بن عبد الله بن سعد، حدثنا عمرو بن أبي قيس، عن مُطرِّف، عن المنهال بن عمرو، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس: أنَّ رجلًا سأله عن هذه الآية: ﴿وَاللَّهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِينَ﴾ [الأنعام: 23]، وقال في آية أخرى: ﴿وَلَا يَكْتُمُونَ اللَّهَ حَدِيثًا﴾ [النساء: 42]، فقال ابن عبَّاس: أما قوله: ﴿وَاللَّهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِينَ﴾ فإنهم لما رأَوْا يومَ القيامة أنه لا يدخل الجنةَ إِلَّا أَهل الإسلام، قالوا: تعالَوا فلنَجحَدْ، فَخَتَمَ الله على أفواهِهم، فتكلَّمت أيديهم وأرجلُهم، فلا يَكتُمون اللهَ حديثًا (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3198 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے ان سے اس آیت ﴿وَاللَّهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِينَ﴾ ”ہمارے رب اللہ کی قسم! ہم مشرک نہ تھے“ [سورة الأنعام: 23] کے بارے میں پوچھا جبکہ دوسری آیت میں ہے ﴿وَلَا يَكْتُمُونَ اللَّهَ حَدِيثًا﴾ ”اور وہ اللہ سے کوئی بات نہیں چھپا سکیں گے“ [سورة النساء: 42]، (یعنی یہ کیسے ممکن ہے؟) تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”جہاں تک ان کے اس قول کا تعلق ہے کہ ”ہمارے رب اللہ کی قسم! ہم مشرک نہ تھے“ تو وہ (ایسا اس لیے کہیں گے کہ) جب قیامت کے دن وہ دیکھیں گے کہ جنت میں صرف اہل اسلام ہی داخل ہو رہے ہیں تو وہ کہیں گے: آؤ ہم بھی (شرک کا) انکار کر دیتے ہیں، تب اللہ تعالیٰ ان کے منہ پر مہر لگا دے گا اور ان کے ہاتھ اور پاؤں کلام کریں گے، اس وقت وہ اللہ سے کوئی بات نہیں چھپا سکیں گے“۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3237
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن من أجل عبد العزيز بن حاتم وعمرو بن أبي قيس. مطرف: هو ابن طريف.» [ترقيم الرساله 3237] [ترقيم الشركة 3217] [ترقيم العلميه 3198]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده حسن من أجل عبد العزيز بن حاتم وعمرو بن أبي قيس. مطرف: هو ابن طريف.
درجۂ حدیث: اس کی سند عبدالعزیز بن حاتم اور عمرو بن ابی قیس کی وجہ سے ’حسن‘ ہے۔
فنی نکتہ / علّت: مطرف سے مراد ’ابن طریف‘ ہیں۔
وأخرجه الطبراني في "تفسيره" 5/ 94، وكذا ابن أبي حاتم 4/ 1274 و 8/ 2558 من طريقين عن عمرو بن أبي قيس، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے طبرانی نے اپنی "تفسیر" 5/ 94 میں، اور اسی طرح ابن ابی حاتم نے 4/ 1274 اور 8/ 2558 میں عمرو بن ابی قیس سے دو طریقوں سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3237 سے ماخوذ ہے۔