المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
شَأْنُ نُزُولِ آيَةِ : ( لَا تَقْرَبُوا الصَّلَاةَ وَأَنْتُمْ سُكَارَى ) باب: آیت “نشے کی حالت میں نماز کے قریب نہ جاؤ” کے نازل ہونے کا سبب
أخبرنا محمد بن علي بن دُحَيم الشَّيباني، حدثنا أحمد بن حازم الغِفاري، حدثنا أبو نُعيم وقَبِيصة قالا: حدثنا سفيان، عن عطاء بن السائب، عن أبي عبد الرحمن، عن عليٍّ قال: دعانا رجلٌ من الأنصار قبل تحريم الخمر، فحَضَرَت صلاةُ المغرب، فتقدَّم رجلٌ فقرأ ﴿قُلْ يَاأَيُّهَا الْكَافِرُونَ﴾ فالتبس عليه، فنزلت: ﴿لَا تَقْرَبُوا الصَّلَاةَ وَأَنْتُمْ سُكَارَى حَتَّى تَعْلَمُوا مَا تَقُولُونَ﴾ الآية [النساء:43] (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وفي هذا الحديث فائدة كبيرة، وهي أنَّ الخوارج تَنُسب هذا السُّكرَ وهذه القراءةَ إلى أمير المؤمنين عليِّ بن أبي طالب دون غيره، وقد برَّأَه الله منها، فإنه راوي هذا الحديث!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3199 - صحيحسیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انصار کے ایک شخص نے ہمیں شراب کی حرمت سے پہلے (کھانے پر) بلایا، پس مغرب کی نماز کا وقت ہو گیا تو ایک شخص آگے بڑھا (امامت کے لیے) اور اس نے سورۃ ﴿قُلْ يَاأَيُّهَا الْكَافِرُونَ﴾ پڑھی تو اسے اشتباہ (خلط ملط) ہو گیا، تب یہ آیت نازل ہوئی: ﴿لَا تَقْرَبُوا الصَّلَاةَ وَأَنْتُمْ سُكَارَى حَتَّى تَعْلَمُوا مَا تَقُولُونَ﴾ ”نماز کے قریب نہ جاؤ جب تم نشے کی حالت میں ہو، یہاں تک کہ تم وہ سمجھنے لگو جو تم کہہ رہے ہو“ [سورة النساء: 43]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ اس حدیث میں ایک بہت بڑا فائدہ ہے، وہ یہ کہ خوارج اس نشے اور (غلط) قرات کی نسبت صرف امیر المؤمنین علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی طرف کرتے ہیں جبکہ اللہ نے انہیں اس سے بری کر دیا ہے کیونکہ وہ خود اس حدیث کے راوی ہیں (اور یہاں وہ کسی اور شخص کا ذکر کر رہے ہیں)۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے؛ اور سفیان (ثوری) کی عطاء سے روایت اختلاط سے پہلے کی ہے۔
فنی نکتہ / علّت: لیکن ان پر اس بات میں اختلاف ہوا ہے کہ اس نماز میں ان کی امامت کس نے کروائی تھی، جیسا کہ اس کا بیان روایات (7406 - 7408) کے ذیل میں آئے گا۔