حدیث نمبر: 3203
حدثني علي بن عيسى، حدثنا مُسدَّد بن قَطَن، حدثنا عثمان بن أبي شَيْبة، حدثنا عبد الله بن إدريس، عن محمد بن إسحاق، عن إسماعيل بن أُمية، عن أبي الزُّبير، عن سعيد بن جُبَير، عن ابن عبَّاس قال: قال رسول الله ﷺ: "لمَّا أُصيبَ إخوانُكم بأُحدٍ، جعل الله أرواحَهم في جوفِ طيرٍ تَرِدُ أنهارَ الجنة وتأكل من ثمارِها، وتأوي إلى قناديلَ من ذهب معلَّقة في ظِلِّ العَرْش، فلما وَجَدُوا طِيبَ مَأكَلِهم ومَشرَبهم ومَقِيلهم قالوا: من يبلَّغ إخوانَنا عنا أنَّا أحياءٌ في الجنة نُرزَقُ، لئلَّا يَزهَدُوا في الجهاد، ولا يَنكُلوا في الحرب؟ فقال الله ﷿: أنا أبلِّغُهم عنكم، فأنزل الله تعالى: ﴿وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ﴾ الآية [آل عمران: 169] (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3165 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تمہارے بھائی احد (کے میدان) میں شہید ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی روحوں کو سبز پرندوں کے جوف (پوپلے جسم) میں رکھ دیا جو جنت کی نہروں پر آتی ہیں، اس کے پھل کھاتی ہیں اور عرش کے سائے میں لٹکی ہوئی سونے کی قندیلوں میں بسیرا کرتی ہیں، پس جب انہوں نے اپنے کھانے، پینے اور آرام گاہ کی پاکیزگی و لطافت کو دیکھا تو کہنے لگے: ہمارے بھائیوں کو ہماری طرف سے کون یہ خبر پہنچائے گا کہ ہم جنت میں زندہ ہیں اور ہمیں رزق دیا جا رہا ہے، تاکہ وہ جہاد سے بے رغبتی نہ کریں اور جنگ کے وقت پیٹھ نہ پھیریں؟ تو اللہ عزوجل نے فرمایا: میں تمہاری طرف سے انہیں یہ پیغام پہنچاتا ہوں، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا ۚ بَلْ أَحْيَاءٌ عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ﴾ ”اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کیے گئے ہیں، انہیں ہرگز مردہ گمان نہ کرو بلکہ وہ زندہ ہیں، اپنے رب کے پاس رزق دیے جاتے ہیں“ [سورة آل عمران: 169]۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔“

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3203
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن من أجل محمد بن إسحاق. وهو مكرر (2475).» [ترقيم الرساله 3203] [ترقيم الشركة 3183] [ترقيم العلميه 3165]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده حسن من أجل محمد بن إسحاق. وهو مكرر (2475).
درجۂ حدیث: اس کی سند محمد بن اسحاق کی وجہ سے ’حسن‘ ہے۔
تفصیلِ روایت: اور یہ مکرر ہے (2475)۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3203 سے ماخوذ ہے۔