حدیث نمبر: 3202
حدثنا علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي وعلي بن عبد العزيز: قالا: حدثنا حجَّاج بن مِنْهال، حدثنا حمَّاد بن سَلَمة، عن ثابت، عن أنس، عن أبي طَلْحة الأنصاري قال: رفعتُ رأسي يومَ أُحد، فجعلتُ أنظر وما منهم أحد إلَّا وهو يَمِيدُ تحت حَجَفَتِه من النُّعاس، فذلك قوله ﷿: ﴿ثُمَّ أَنْزَلَ عَلَيْكُمْ مِنْ بَعْدِ الْغَمِّ أَمَنَةً نُعَاسًا يَغْشَى طَائِفَةً مِنْكُمْ﴾ الآية [آل عمران: 154] (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3164 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابو طلحہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”غزوہ احد کے دن میں نے اپنا سر اٹھایا تو میں (ادھر ادھر) دیکھنے لگا، اس وقت (صحابہ کرام میں سے) کوئی بھی ایسا نہ تھا جو اونگھ کے غلبے کی وجہ سے اپنی ڈھال کے نیچے جھوم نہ رہا ہو، اور یہی اللہ عزوجل کا یہ فرمان ہے: ﴿ثُمَّ أَنْزَلَ عَلَيْكُمْ مِنْ بَعْدِ الْغَمِّ أَمَنَةً نُعَاسًا يَغْشَى طَائِفَةً مِنْكُمْ﴾ ”پھر اس نے غم کے بعد تم پر امن و اطمینان (کی کیفیت) نازل فرمائی یعنی ایسی نیند جو تم میں سے ایک گروہ کو ڈھانپ رہی تھی“ [سورة آل عمران: 154]۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔“

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3202
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،وأخرجه الترمذي (3007)، والنسائي (11134) من طريقين عن حماد بن سلمة، بهذا الإسناد. والنسائي ليس في حديثه ذكر الآية. وقال الترمذي: حديث حسن صحيح.» [ترقيم الرساله 3202] [ترقيم الشركة 3182] [ترقيم العلميه 3164]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده صحيح. وأخرجه الترمذي (3007)، والنسائي (11134) من طريقين عن حماد بن سلمة، بهذا الإسناد. والنسائي ليس في حديثه ذكر الآية. وقال الترمذي: حديث حسن صحيح.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
حوالہ / مصدر: اسے ترمذی نے (3007) اور نسائی نے (11134) میں حماد بن سلمہ سے دو طریقوں سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔ نسائی کی حدیث میں آیت کا ذکر نہیں ہے۔ اور ترمذی نے کہا: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
وأخرج معناه أحمد (26) (16357)، والبخاري (4068) و (4562)، والترمذي (3008)، وابن حبان (7180) من طريق قتادة، والنسائي (11014) و (11135) من طريق حُميد الطويل، كلاهما عن أنس به.
حوالہ / مصدر: اور اس کا مفہوم احمد نے (26) (16357)، بخاری نے (4068) اور (4562)، ترمذی نے (3008)، اور ابن حبان نے (7180) میں قتادہ کے طریق سے؛ اور نسائی نے (11014) اور (11135) میں حمید الطویل کے طریق سے؛ دونوں نے انس رضی اللہ عنہ سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3202 سے ماخوذ ہے۔