المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
أَرْوَاحُ الشُّهَدَاءِ فِي جَوْفِ طَيْرٍ تَرِدُ أَنْهَارَ الْجَنَّةِ باب: شہداء کی ارواح سبز پرندوں کے جسموں میں جنت کی نہروں میں سیر کرتی ہیں
حدیث نمبر: 3204
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدثنا العبَّاس بن محمد الدُّوري، حدثنا هاشم بن القاسم، حدثنا أبو سعيد المؤدِّب، عن هشام بن عُرْوة، عن أبيه، عن عائشة: أنها قالت لعبد الله بن الزُّبير: يا ابن أُختي، أمَا والله إنَّ أباك وجدَّك -يعني أبا بكر والزُّبير- لَمِن الذين قال الله ﷿ ﴿الَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِلَّهِ وَالرَّسُولِ مِنْ بَعْدِ مَا أَصَابَهُمُ الْقَرْحُ﴾ [آل عمران: 172] (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3166 - على شرط البخاري ومسلمحافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے فرمایا: ”اے میرے بھانجے! اللہ کی قسم! تمہارے والد (سیدنا زبیر) اور تمہارے نانا (سیدنا ابوبکر صدیق) یقیناً ان لوگوں میں شامل تھے جن کے بارے میں اللہ عزوجل نے فرمایا ہے: ﴿الَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِلَّهِ وَالرَّسُولِ مِنْ بَعْدِ مَا أَصَابَهُمُ الْقَرْحُ﴾ ”جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی پکار پر لبیک کہا اس کے بعد کہ انہیں (غزوہ احد میں) زخم پہنچ چکا تھا“ [سورة آل عمران: 172]۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده صحيح. أبو سعيد المؤدب: هو محمد بن مسلم بن أبي الوضَّاح. وسيأتي مكررًا برقم (4367).
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: ابو سعید المؤدب سے مراد ’محمد بن مسلم بن ابی الوضاح‘ ہیں۔
تفصیلِ روایت: اور یہ آگے نمبر (4367) پر مکرر آئے گا۔
وأخرجه بنحوه البخاري (4077)، ومسلم (2418) (51)، وابن ماجه (124) من طرق عن هشام بن عروة، بهذا الإسناد. فاستدراك الحاكم له ذهولٌ منه ﵀.
حوالہ / مصدر: اس کی مثل بخاری نے (4077)، مسلم نے (2418) (51)، اور ابن ماجہ نے (124) میں ہشام بن عروہ کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے؛
اہم نکتہ: چنانچہ حاکم کا اس پر استدراک کرنا ان کی بھول (ذہول) ہے، اللہ ان پر رحم کرے۔
وسيأتي بنحوه برقم (5660).
تفصیلِ روایت: اور یہ آگے اسی طرح نمبر (5660) پر آئے گا۔
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: ابو سعید المؤدب سے مراد ’محمد بن مسلم بن ابی الوضاح‘ ہیں۔
تفصیلِ روایت: اور یہ آگے نمبر (4367) پر مکرر آئے گا۔
وأخرجه بنحوه البخاري (4077)، ومسلم (2418) (51)، وابن ماجه (124) من طرق عن هشام بن عروة، بهذا الإسناد. فاستدراك الحاكم له ذهولٌ منه ﵀.
حوالہ / مصدر: اس کی مثل بخاری نے (4077)، مسلم نے (2418) (51)، اور ابن ماجہ نے (124) میں ہشام بن عروہ کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے؛
اہم نکتہ: چنانچہ حاکم کا اس پر استدراک کرنا ان کی بھول (ذہول) ہے، اللہ ان پر رحم کرے۔
وسيأتي بنحوه برقم (5660).
تفصیلِ روایت: اور یہ آگے اسی طرح نمبر (5660) پر آئے گا۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3204 سے ماخوذ ہے۔