المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
شَرْحُ مَعْنَى : ( يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ ) باب: آیت “اے ایمان والو! اللہ سے اس طرح ڈرو جیسے اس سے ڈرنے کا حق ہے” کے معنی کی وضاحت
حدیث نمبر: 3197
حدثني علي بن حَمْشاذَ العَدْل، حدثنا محمد بن سليمان بن الحارث، حدثنا عبيد الله بن موسى وأبو نُعيم قالا: حدثنا مِسعَر، عن زُبَيد، عن مُرَّة بن شَرَاحيل، عن عبد الله في قول الله ﷿: ﴿اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ﴾ [آل عمران: 102]، قال: أن يُطاعَ فلا يُعصَى، ويُذكَرَ فلا يُنسَى (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3159 - على شرط البخاري ومسلمحافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اللہ عزوجل کے اس فرمان ﴿اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ﴾ [سورة آل عمران: 102] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے فرمایا: (اللہ سے کماحقہ ڈرنے کا مطلب یہ ہے کہ) اس کی اطاعت کی جائے اور نافرمانی نہ ہو، اور اسے ہر وقت یاد رکھا جائے اور اسے بھلایا نہ جائے۔
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح. أبو نعيم: هو الفضل بن دُكين، وزبيد: هو ابن الحارث الياميّ، وعبد الله: هو ابن مسعود.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: ابو نعیم سے مراد ’فضل بن دکین‘ ہیں، زبید سے مراد ’ابن الحارث الیامی‘ ہیں، اور عبداللہ سے مراد ’ابن مسعود‘ ہیں۔
وأخرجه النسائي (11847) من طريق شعبة، عن زبيد اليامي، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے نسائی نے (11847) میں شعبہ کے طریق سے، انہوں نے زبید الیامی سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: ابو نعیم سے مراد ’فضل بن دکین‘ ہیں، زبید سے مراد ’ابن الحارث الیامی‘ ہیں، اور عبداللہ سے مراد ’ابن مسعود‘ ہیں۔
وأخرجه النسائي (11847) من طريق شعبة، عن زبيد اليامي، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے نسائی نے (11847) میں شعبہ کے طریق سے، انہوں نے زبید الیامی سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3197 سے ماخوذ ہے۔