المستدرك على الصحيحين
كتاب العلم— علم کا بیان
مَنْهُومَانِ لَا يَشْبَعَانِ باب: دو حریص کبھی سیر نہیں ہوتے۔
حدثنا أبو عمرو عثمان بن أحمد بن السَّمّاك ببغداد، حدثنا أبو جعفر محمد بن عبيد الله بن أبي داود المُنادِي، حدثنا رَوْح بن عُبادة، حدثنا كَهمَس بن الحسن، عن عبد الله بن شَقِيق قال: جاء أبو هريرة إلى كعبٍ يَسأَل عنه وكعبٌ في القوم، فقال كعب: ما تريدُ منه؟ فقال: أمَا إني لا أعرفُ أحدًا من أصحاب رسول الله ﷺ يكون أحفظَ لحديثه منِّي، فقال كعب: أمَا إنك لم تَجِدْ أحدًا يَطلُبُ شيئًا إلّا سيَشبَعُ منه يومًا من الدهر إلّا طالبَ علمٍ، وطالبَ دنيا، فقال: أنت كعب، فإني لِمثْل هذا جئتُ (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين. وقولُ الصحابي: إني لحديثِ رسول الله ﷺ أحفظُ من غيري، يُخرَّج في مسانيده.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 313 - فيه انقطاععبداللہ بن شقیق سے روایت ہے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کعب (احبار) کے پاس آئے اور ان کے بارے میں دریافت کیا جبکہ کعب اسی مجلس میں موجود تھے، کعب نے پوچھا: آپ ان سے کیا چاہتے ہیں؟ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”آگاہ رہو کہ میں رسول اللہ ﷺ کے اصحاب میں سے کسی ایسے شخص کو نہیں جانتا جو مجھ سے زیادہ آپ ﷺ کی احادیث کو یاد رکھنے والا ہو۔“ کعب نے جواب دیا: ”سنئے! آپ کسی بھی چیز کے طلبگار کو ایسا نہیں پائیں گے جو کسی نہ کسی دن اس سے اکتا نہ جائے سوائے علم کے طالب اور دنیا کے طالب کے۔“ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”آپ ہی کعب ہیں (جو اتنی گہری بات کر رہے ہیں)، میں ایسی ہی باتوں (کی تصدیق) کے لیے آیا تھا۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، اور کسی صحابی کا یہ کہنا کہ ”میں دوسرے سے زیادہ حدیث یاد رکھنے والا ہوں“، ان کی مسانید میں ذکر کیا جاتا ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
عبد الله بن شقيق لم يحضر هذه القصة التي رواها، لكن عبد الله بن شقيق قد سمع من أبي هريرة وروى عنه، فلا يبعد أن يكون أبو هريرة قد حدَّثه بما جرى له مع كعب، والله أعلم.
درجۂ حدیث: اس کے تمام راوی بالاتفاق ثقہ ہیں۔
فنی نکتہ / علّت: امام ذہبی نے "تلخیص" میں اس پر انقطاع (سند ٹوٹنے) کی علت لگائی ہے، بظاہر ان کا خیال یہ ہے کہ عبد اللہ بن شقیق اس واقعے میں موجود نہیں تھے، لیکن چونکہ عبد اللہ بن شقیق نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے سماع کیا ہے اور ان سے روایت بھی کی ہے، لہٰذا یہ بعید نہیں کہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کعب کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ خود انہیں سنایا ہو۔ واللہ اعلم۔
وأخرجه ابن سعد في "الطبقات" 5/ 237، والدارمي في "سننه" (292)، وابن عساكر في "تاريخ دمشق" 67/ 341 من طريق روح بن عبادة، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اس روایت کو ابن سعد نے "الطبقات الکبریٰ" 5/ 237، امام دارمی نے اپنی "سنن" (292) اور ابن عساکر نے "تاریخ دمشق" 67/ 341 میں روح بن عبادہ کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔