المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
نَفَقَتُكَ عَلَى أَهْلِكَ وَوَلَدِكَ وَخَادِمِكَ صَدَقَةٌ باب: اپنے اہل، اولاد اور خادم پر خرچ کرنا بھی صدقہ ہے
حدیث نمبر: 3155
حدثنا عبد الباقي بن قانع الحافظ، حدثنا عُبيد بن محمد بن حاتم العِجْلُ (3)، حدثني أبو بكر بن أبي النَّضْر، حدثنا أَبي، حدثنا زياد بن عبد الله بن عُلَاثة، حدثنا موسى بن محمد بن إبراهيم التَّيمي، عن أبيه، عن أنس بن مالك: أنَّ رسول الله ﷺ سأَل البراءَ بن عازِبٍ فقال: "يا براءُ، كيف نَفَقتك على أهلِك؟ " -قال: وكان موسِّعًا على أهله- فقال: يا رسول الله، ما أحسُبُها، قال: "فإنَّ نفقتَك على أهلِك وولدِك وخادمِك صدقةٌ، فلا تُتبِعْ ذلك مَنًّا ولا أذًى" (4).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3118 - فيه موسى بن محمد بن إبراهيم التيمي وهو متروك قاله الدارقطنيحافظ طلحہ بابر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ”اے براء! تمہارا اپنے اہل و عیال پر خرچ کیسا ہے؟“ -راوی کہتے ہیں کہ وہ اپنے گھر والوں پر وسعت کے ساتھ خرچ کرتے تھے- تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارا اپنے اہل و عیال، اپنی اولاد اور اپنے خادم پر خرچ کرنا صدقہ ہے، پس اس کے پیچھے احسان جتلانے اور تکلیف دینے (جیسے افعال) نہ لانا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) في النسخ الخطية العجلي، وهو خطأ، فإنَّ عبيدًا كان يلقب العجل، وليس هو نسبة له.
نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں (العجلي) لکھا ہے، اور یہ غلط ہے، کیونکہ عبید کا لقب ’العجل‘ تھا، اور یہ ان کی نسبت نہیں ہے۔
(4) إسناده ضعيف لضعف موسى بن محمد بن إبراهيم التيمي، وبه أعلَّه الذهبي في "تلخيصه".
درجۂ حدیث: اس کی سند موسیٰ بن محمد بن ابراہیم التیمی کے ضعف کی وجہ سے ضعیف ہے، اور اسی وجہ سے ذہبی نے "تلخیص" میں اسے معلول قرار دیا ہے۔
ولم نقف عليه عند غير المصنف.
حوالہ / مصدر: اور ہمیں یہ مصنف کے علاوہ کسی اور کے ہاں نہیں ملا۔
نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں (العجلي) لکھا ہے، اور یہ غلط ہے، کیونکہ عبید کا لقب ’العجل‘ تھا، اور یہ ان کی نسبت نہیں ہے۔
(4) إسناده ضعيف لضعف موسى بن محمد بن إبراهيم التيمي، وبه أعلَّه الذهبي في "تلخيصه".
درجۂ حدیث: اس کی سند موسیٰ بن محمد بن ابراہیم التیمی کے ضعف کی وجہ سے ضعیف ہے، اور اسی وجہ سے ذہبی نے "تلخیص" میں اسے معلول قرار دیا ہے۔
ولم نقف عليه عند غير المصنف.
حوالہ / مصدر: اور ہمیں یہ مصنف کے علاوہ کسی اور کے ہاں نہیں ملا۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3155 سے ماخوذ ہے۔