المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
قِصَّةُ عُزَيْرٍ عَلَيْهِ السَّلَامُ باب: سیدنا عزیر علیہ السلام کا واقعہ
[أخبرنا أبو عبد الله الصَّفّار، حدثنا] (2) أحمد بن مهران، حدثنا عبيد الله ابن موسى، أخبرنا إسرائيل، عن أبي إسحاق عن ناجيةَ بن كعب، عن عليٍّ قال: خرج عُزيرٌ نبيُّ الله من مدينتِه وهو رجل شابٌّ، فمرَّ على قرية وهي خاويةٌ على عُروشِها، قال: أنَّى يُحْيي هذه اللهُ بعد موتها، فأماته الله مئةَ عام ثم بَعَثَه، فأولُ ما خلق عيناه (1)، فجعل يَنظُر إلى عظامه، يُنظَمُ بعضها إلى بعض، ثم كُسِيَت لحمًا، ونُفِخَ فيه الرُّوحُ، فقيل له: كم لَبِثْتَ؟ قال: يومًا أو بعضَ يوم، قال: بل لبثتَ مئةَ عام، فأتى المدينة وقد تَرَكَ جارًا له إسكافًا شابًا، فجاء وهو شيخٌ كبير (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3117 - على شرط البخاري ومسلمسیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی عزیر علیہ السلام اپنی بستی سے ایک نوجوان کی حیثیت میں نکلے، ان کا گزر ایک ایسی بستی سے ہوا جو اپنی چھتوں کے بل گری پڑی تھی، انہوں نے کہا: اللہ اسے اس کی موت کے بعد کیسے زندہ کرے گا؟ تو اللہ نے انہیں سو سال تک موت کی حالت میں رکھا پھر انہیں دوبارہ اٹھایا، سب سے پہلے ان کی آنکھیں پیدا کی گئیں، وہ اپنی ہڈیوں کو دیکھنے لگے کہ کس طرح ایک دوسرے سے جوڑی جا رہی ہیں، پھر انہیں گوشت پہنایا گیا اور ان میں روح پھونکی گئی، ان سے پوچھا گیا: آپ کتنا عرصہ ٹھہرے؟ انہوں نے کہا: ایک دن یا اس کا کچھ حصہ، فرمایا گیا: بلکہ آپ سو سال ٹھہرے ہیں، پھر وہ اپنی بستی آئے تو وہاں اپنے ایک موچی پڑوسی کو پایا جسے وہ نوجوان چھوڑ کر گئے تھے اور اب وہ بوڑھا ہو چکا تھا۔
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: اس کی سند ناجیہ بن کعب کی وجہ سے تحسین (حسن قرار دیے جانے) کا احتمال رکھتی ہے۔
وأخرجه ابن أبي حاتم في "تفسيره" 2/ 502 من طريق آدم بن إياس، عن إسرائيل، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابن ابی حاتم نے اپنی "تفسیر" 2/ 502 میں آدم بن ایاس کے طریق سے، انہوں نے اسرائیل سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔