المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
نَفَقَتُكَ عَلَى أَهْلِكَ وَوَلَدِكَ وَخَادِمِكَ صَدَقَةٌ باب: اپنے اہل، اولاد اور خادم پر خرچ کرنا بھی صدقہ ہے
حدیث نمبر: 3156
حدثنا الحسن بن يعقوب، حدثنا يحيى بن أبي طالب، حدثنا عبد الوهاب ابن عطاء، أخبرنا هارون بن موسى، عن خالد الحذَّاء، عن عبد الله الله بن الحارث، عن عبد الله بن عبَّاس: أنه كان يقرؤها: (برِبْوَةٍ) [البقرة: 265] بكسر الراء، قال: والرِّبوة: النَّشْرُ من الأرض (5).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3119 - صحيححافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ اس لفظ ﴿بِرِبْوَةٍ﴾ [سورة البقرة: 265] کو «را» کے کسرہ یعنی زیر کے ساتھ پڑھتے تھے اور انہوں نے فرمایا: «الربوه» سے مراد زمین کا بلند حصہ ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(5) إسناده قوي. وقرأها من السبعة بكسر الراء نافع وأبو عمرو وابن كثير وحمزة والكسائي، وقرأ عاصم وابن عامر: (برَبْوَةٍ) بفتح الراء. انظر "السبعة" لابن مجاهد ص 190.
درجۂ حدیث: اس کی سند ’قوی‘ ہے۔
فنی نکتہ / علّت: اور اسے سات قراء میں سے نافع، ابو عمرو، ابن کثیر، حمزہ اور کسائی نے ’را‘ کے زیر (کسرہ) کے ساتھ پڑھا ہے، جبکہ عاصم اور ابن عامر نے (برَبْوَةٍ) ’را‘ کے زبر (فتحہ) کے ساتھ پڑھا ہے۔ (دیکھیے: ابن مجاہد کی "السبعہ" ص 190)۔
درجۂ حدیث: اس کی سند ’قوی‘ ہے۔
فنی نکتہ / علّت: اور اسے سات قراء میں سے نافع، ابو عمرو، ابن کثیر، حمزہ اور کسائی نے ’را‘ کے زیر (کسرہ) کے ساتھ پڑھا ہے، جبکہ عاصم اور ابن عامر نے (برَبْوَةٍ) ’را‘ کے زبر (فتحہ) کے ساتھ پڑھا ہے۔ (دیکھیے: ابن مجاہد کی "السبعہ" ص 190)۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3156 سے ماخوذ ہے۔