حدیث نمبر: 3140
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب حدثنا الحسن بن علي بن عفَّان، حدثنا يحيى بن آدم، حدثنا إسرائيل، عن عطاء بن السائب، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عباس قال: لما نزلت: ﴿وَلَا تَقْرَبُوا مَالَ الْيَتِيمِ إِلَّا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ﴾ [الأنعام:152]، عَزَلوا أموالَهم عن أموال اليتامى، فجعل الطعامُ يَفسُد واللحمُ يَنتُن، فشَكَوْا ذلك إلى رسول الله ﷺ فَأَنزَلَ الله ﷿: ﴿قُلْ إِصْلَاحٌ لَهُمْ خَيْرٌ وَإِنْ تُخَالِطُوهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ﴾ [البقرة: 220]، قال: فخالَطُوهم (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3103 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَلَا تَقْرَبُوا مَالَ الْيَتِيمِ إِلَّا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ﴾ [سورة الأنعام: 152] تو لوگوں نے اپنے کھانے پینے کے اموال کو یتیموں کے اموال سے بالکل الگ کر دیا، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ یتیموں کا کھانا خراب ہونے لگا اور گوشت سڑنے لگا، انہوں نے اس بات کی شکایت رسول اللہ ﷺ سے کی تو اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿قُلْ إِصْلَاحٌ لَهُمْ خَيْرٌ وَإِنْ تُخَالِطُوهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ﴾ [سورة البقرة: 220]، راوی کہتے ہیں: تب لوگوں نے یتیموں کے ساتھ مل جل کر رہنا اور اموال کو شریک کرنا شروع کر دیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3140
درجۂ حدیث محدثین: حديث حسن
تخریج حدیث «حديث حسن، وقد سلف الكلام عليه برقم (2530).» [ترقيم الرساله 3140] [ترقيم الشركة 3121] [ترقيم العلميه 3103]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) حديث حسن، وقد سلف الكلام عليه برقم (2530).
درجۂ حدیث: یہ حدیث حسن ہے، تفصیلِ روایت: اور اس پر بحث نمبر (2530) پر گزر چکی ہے۔
وأخرجه أحمد 5 / (3000) عن يحيى بن آدم، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے احمد نے 5/ (3000) میں یحییٰ بن آدم سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3140 سے ماخوذ ہے۔