حدیث نمبر: 3126
أخبرنا أبو الحُسين (2) علي بن عبد الرحمن السَّبِيعي، حدثنا أحمد بن حازم الغِفاري، حدثنا عُبيد الله بن موسى، حدثنا إسرائيل، عن أبي إسحاق، عن البَرَاء؛ قال له رجل: يا أبا عُمارةَ ﴿وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ﴾ [البقرة: 195]، أهو الرجلُ يَلقَى العدوَّ فيقاتلَ حتى يُقتَل؟ قال: لا، ولكن هو الرجل يُذنِبُ الذنبَ، فيقول: لا يَغْفِرُه الله لي (3).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3089 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر

سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے ان سے پوچھا: اے ابوعمارہ! کیا اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ﴾ [سورة البقرة: 195] سے مراد وہ شخص ہے جو دشمن کے لشکر سے ٹکراتا ہے اور لڑتے لڑتے شہید ہو جاتا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: ”نہیں، بلکہ اس سے مراد وہ شخص ہے جو کوئی گناہ کر بیٹھے اور پھر (مایوس ہو کر) کہے کہ اللہ اب مجھے کبھی معاف نہیں کرے گا۔“
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3126
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، أبو إسحاق: هو عمرو بن عبد الله السَّبيعي، جدُّ إسرائيل.» [ترقيم الرساله 3126] [ترقيم الشركة 3107] [ترقيم العلميه 3089]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: الحسن، وانظر التعليق عليه فيما سلف عند المصنف برقم (1007).
نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں (الحسن) کی طرف تحریف ہو گئی ہے، اور اس پر تعلیق (بحث) وہیں دیکھیں جو مصنف کے ہاں نمبر (1007) پر گزر چکی ہے۔
(3) إسناده صحيح. أبو إسحاق: هو عمرو بن عبد الله السَّبيعي، جدُّ إسرائيل.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: ابو اسحاق سے مراد ’عمرو بن عبداللہ السبیعی‘ ہیں، جو اسرائیل کے دادا ہیں۔
وأخرجه البيهقي في "شعب الإيمان" (6691) عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد. وانظر تتمة تخريجه في "مسند أحمد" 30/ (18477).
حوالہ / مصدر: اسے بیہقی نے "شعب الإيمان" (6691) میں ابو عبداللہ الحاکم سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔ اور اس کی بقیہ تخریج "مسند احمد" 30/ (18477) میں دیکھیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3126 سے ماخوذ ہے۔