المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
شَرْحُ مَعْنَى ( وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ ) الْآيَةَ باب: آیت “اور اپنے ہاتھوں اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو” کے معنی کی وضاحت
حدثنا محمد بن صالح بن هانئ حدثنا محمد بن أحمد بن أنس القرشي، حدثنا عبد الله بن يزيد المقرئ، أخبرنا حَيْوة بن شُريح، أخبرنا يزيد بن أبي حَبيب، أخبرني أسلمُ أبو عمران مولى بني تُجِيبَ، قال: كنا بالقُسطنطينيَّة وعلى أهل مِصر عُقْبة بن عامر الجُهَني، وعلى أهل الشام فَضَالة بن عُبيد الأنصاري، فخرج صفٌّ عظيم من الرُّوم فصَفَفْنا لهم [صفًّا] عظيمًا من المسلمين [فحَمَلَ رجل من المسلمين] (2) على صفّ الروم حتى دخل فيهم، ثم خرج إلينا مُقبِلًا فصاح في الناس، فقالوا: أَلقى بيده إلى التَّهلُكَةِ، فقال أبو أيوب صاحب رسول الله ﷺ: أيها الناس، إنكم تتأوّلونَ هذه الآيةَ على هذا التأويل وإنما أُنزِلَت فينا معشرَ الأنصارِ، إنَّا لما أعزَّ الله دينَه وكثَّر ناصِرِيه، قال بعضنا لبعض سرًّا من رسول الله ﷺ: إِنَّ أموالنا قد ضاعت، فلو أقمنا فيها [فأصلَحْنا منها] (3) فردَّ اللهُ علينا ما هَمَمْنا به، قال: فأنزل الله ﷿: ﴿وَأَنْفِقُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ﴾ [البقرة: 195]، فكانت التَّهلُكةُ في الإقامة على أموالنا التي أرَدْنا، فأُمِرْنا بالغزو. فما زال أبو أيوب غازيًا في سبيل الله حتى قَبَضَه الله ﷿ (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3088 - على شرط البخاري ومسلماسلم ابو عمران مولی بنو تجیب سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم قسطنطنیہ میں تھے، اہل مصر پر عقبہ بن عامر جہنی اور اہل شام پر فضالہ بن عبید انصاری رضی اللہ عنہما امیر تھے، رومیوں کا ایک عظیم لشکر نکلا تو ہم مسلمانوں نے بھی ان کے مقابلے میں ایک عظیم صف بنائی، پھر مسلمانوں میں سے ایک شخص نے رومیوں کی صف پر حملہ کر دیا یہاں تک کہ وہ ان کے اندر گھس گیا، پھر وہ ہماری طرف پلٹ کر آیا تو لوگوں نے شور مچایا اور کہا: ”اس نے اپنے ہاتھوں خود کو ہلاکت میں ڈال دیا“، اس پر رسول اللہ ﷺ کے جلیل القدر صحابی سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اے لوگو! تم اس آیت کی یہ تاویل کر رہے ہو حالانکہ یہ آیت ہم انصار کے بارے میں نازل ہوئی تھی، جب اللہ نے اپنے دین کو غلبہ عطا فرمایا اور اس کے مددگار کثیر ہو گئے تو ہم نے رسول اللہ ﷺ سے پوشیدہ طور پر آپس میں ایک دوسرے سے کہا کہ ہمارے اموال ضائع ہو چکے ہیں، کاش کہ ہم اب ان میں قیام کریں اور ان کی اصلاح (کاشت کاری و دیکھ بھال) کریں، تو اللہ تعالیٰ نے ہماری اس بات کا رد نازل فرمایا جس کا ہم نے ارادہ کیا تھا، پس اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿وَأَنْفِقُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ﴾ ”اور اللہ کی راہ میں خرچ کرو اور اپنے ہاتھوں خود کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔“ [سورة البقرة: 195]، چنانچہ ہلاکت سے مراد ان اموال کی دیکھ بھال کے لیے (جہاد چھوڑ کر) بیٹھ رہنا تھا جس کا ہم نے ارادہ کیا تھا، پس ہمیں جہاد کا حکم دیا گیا۔“ پھر سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ ہمیشہ اللہ کی راہ میں جہاد کرتے رہے یہاں تک کہ اللہ عزوجل نے ان کی روح قبض فرما لی۔
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
نوٹ / توضیح: بریکٹ میں موجود عبارت ہمارے قلمی نسخوں سے گر گئی ہے، اور ہم نے اسے ذہبی کی "تلخیص" اور بیہقی کی "معرفة السنن والآثار" (17699) سے پورا (استدراک) کیا ہے جہاں انہوں نے اسے مصنف سے ان کی سند اور متن کے ساتھ روایت کیا ہے۔
(3) ما بين المعقوفين هنا مكانه بياض في النسخ واستدركناه من "المعرفة".
نوٹ / توضیح: بریکٹ میں موجود جگہ پر نسخوں میں بیاض (خالی جگہ) ہے اور ہم نے اسے "المعرفة" (بیہقی کی کتاب) سے پورا (استدراک) کیا ہے۔
(1) إسناده صحيح. وقد سلف برقم (2465).
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
تفصیلِ روایت: اور یہ نمبر (2465) پر گزر چکا ہے۔