المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
ذِكْرُ فَضِيلَةِ سُورَةِ الْفَاتِحَةِ مَا أُنْزِلَتْ مِثْلُهَا فِي الْكُتُبِ الْمُتَقَدِّمَةِ باب: سورۂ فاتحہ کی فضیلت کا بیان کہ اس جیسی کوئی سورت پہلی کتابوں میں نازل نہیں ہوئی
حدیث نمبر: 3059
أخبرنا أبو أحمد محمد بن محمد بن إسحاق الصَّفّار العَدْل، حدثنا أحمد بن نَصْر، حدثنا عمرو بن طلحة القَنَّاد، حدثنا أسباط بن نَصْر، عن إسماعيل ابن عبد الرحمن السُّدِّي، عن مُرَّة الهَمْداني، عن عبد الله بن مسعود وعن (5) ناسٍ من أصحاب النبي ﷺ: ﴿مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ﴾ قال: هو يومُ الحِساب (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3022 - على شرط مسلمحافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور نبی کریم ﷺ کے دیگر صحابہ سے اللہ عزوجل کے ارشاد ﴿مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ﴾ [سورة الفاتحة: 4] کے بارے میں روایت ہے کہ اس سے مراد حساب کا دن ہے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین (امام بخاری و مسلم) نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(5) هكذا في (ب)، وفي (ز) و (ص) و (ع): عن بإسقاط الواو، وهو خطأ وما في (ب) هو الصواب، وهذه نسخة معروفة في التفسير.
نوٹ / توضیح: نسخہ (ب) میں اسی طرح ہے، جبکہ نسخہ (ز)، (ص) اور (ع) میں لفظ ’عن‘ واؤ کے اسقاط (گرنے) کے ساتھ ہے، اور یہ غلطی ہے؛ جو نسخہ (ب) میں ہے وہی درست ہے، اور یہ تفسیر میں ایک معروف نسخہ ہے۔
(1) إسناده حسن.
درجۂ حدیث: اس کی سند حسن ہے۔
وأخرجه الطبري في "تفسيره" 1/ 68 عن موسى بن هارون الهمداني، عن عمرو القنّاد بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے طبری نے "تفسيره" 1/ 68 میں موسیٰ بن ہارون الہمدانی سے، انہوں نے عمرو القناد سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
نوٹ / توضیح: نسخہ (ب) میں اسی طرح ہے، جبکہ نسخہ (ز)، (ص) اور (ع) میں لفظ ’عن‘ واؤ کے اسقاط (گرنے) کے ساتھ ہے، اور یہ غلطی ہے؛ جو نسخہ (ب) میں ہے وہی درست ہے، اور یہ تفسیر میں ایک معروف نسخہ ہے۔
(1) إسناده حسن.
درجۂ حدیث: اس کی سند حسن ہے۔
وأخرجه الطبري في "تفسيره" 1/ 68 عن موسى بن هارون الهمداني، عن عمرو القنّاد بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے طبری نے "تفسيره" 1/ 68 میں موسیٰ بن ہارون الہمدانی سے، انہوں نے عمرو القناد سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3059 سے ماخوذ ہے۔