المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
مَشْيُهُ صَلَى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَمُدَارَاتُهُ لِلْأَضْيَافِ باب: سیدنا رسول اللہ ﷺ کی چال اور مہمانوں کے ساتھ حسنِ سلوک
حدیث نمبر: 2951
أخبرَناه أبو زكريا يحيى بن محمد العَنبَري، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا محمد بن المثنَّى، حدثنا أبو أحمد، حدثنا سفيان، عن أبي هاشم، عن عاصم بن لَقِيط، عن أبيه، أنَّ النبي ﷺ قال: "لا تَحسِبَنَّ"، ولم يقل: لا تَحْسَبَنَّ (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2915 - سكت عنه الذهبي في التلخيصحافظ طلحہ بابر
عاصم بن لقیط اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”«لَا تَحْسِبَنَّ»“ اور آپ ﷺ نے ”«لَا تَحْسُبَنَّ»“ (سین کے ضمہ کے ساتھ) نہیں فرمایا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح. أبو أحمد: هو محمد بن عبد الله الزبيري، وأبو هاشم: هو إسماعيل بن كثير.
درجۂ اسناد: اس کی سند "صحیح" ہے۔ ابواحمد سے مراد "محمد بن عبداللہ الزبیری" اور ابوہاشم سے مراد "اسماعیل بن کثیر" ہیں۔
وأخرجه أحمد 26/ (16382) عن وكيع، عن سفيان، بهذا الإسناد. وانظر ما قبله.
حوالہ / تخریج: اسے احمد (26/ 16382) نے وکیع عن سفیان کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ ماقبل ملاحظہ کریں۔
درجۂ اسناد: اس کی سند "صحیح" ہے۔ ابواحمد سے مراد "محمد بن عبداللہ الزبیری" اور ابوہاشم سے مراد "اسماعیل بن کثیر" ہیں۔
وأخرجه أحمد 26/ (16382) عن وكيع، عن سفيان، بهذا الإسناد. وانظر ما قبله.
حوالہ / تخریج: اسے احمد (26/ 16382) نے وکیع عن سفیان کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ ماقبل ملاحظہ کریں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2951 سے ماخوذ ہے۔