المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ - يَأْمُرُكُمْ أَنْ يَقْرَأَ كُلُّ رَجُلٍ مِنْكُمْ كَمَا عَلِمَ باب: سیدنا رسول اللہ ﷺ تمہیں حکم دیتے ہیں کہ تم میں سے ہر شخص اسی طرح پڑھے جس طرح اسے سکھایا گیا
حدیث نمبر: 2924
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدثنا أبو البَختَري عبد الله بن محمد بن شاكر، حدثنا يحيى بن آدم، حدثنا إسرائيل، عن أبي إسحاق، عن عبد الرحمن بن يزيد، عن عبد الله قال: قرأْنا المفصَّلَ بمكة حِجَجًا ليس فيه: يا أيُّها الذين آمَنوا (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2888 - على شرط البخاري ومسلمحافظ طلحہ بابر
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم مکہ مکرمہ میں کئی برسوں تک مفصل سورتیں پڑھتے رہے جن میں ﴿يا ايها الذين آمنوا﴾ (اے ایمان والو!) کی پکار نہیں تھی۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده صحيح. أبو إسحاق: هو عمرو بن عبد الله السَّبيعي، وعبد الرحمن بن يزيد: هو ابن قيس النَّخَعي.
درجۂ اسناد: اس کی سند "صحیح" ہے۔ ابواسحاق سے مراد "عمرو بن عبداللہ السبیعی" اور عبدالرحمن بن یزید سے مراد "ابن قیس النخعی" ہیں۔
وأخرجه ابن عدي في "الكامل" 1/ 423 من طريق خلف - وتحرَّف في المطبوع إلى: خالد - بن سالم، عن يحيى بن آدم، بهذا الإسناد.
حوالہ / تخریج: اسے ابن عدی نے "الکامل" (1/ 423) میں خلف (مطبوعہ میں غلطی سے خالد لکھا ہے) بن سالم عن یحییٰ بن آدم کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وسيأتي من طريق وكيع عن إسرائيل عند المصنف برقم (4342). وانظر (4341).
حوالہ: یہ روایت آگے مصنف کے ہاں وکیع عن اسرائیل کے طریق سے نمبر (4342) پر آئے گی۔ (دیکھیں 4341)۔
درجۂ اسناد: اس کی سند "صحیح" ہے۔ ابواسحاق سے مراد "عمرو بن عبداللہ السبیعی" اور عبدالرحمن بن یزید سے مراد "ابن قیس النخعی" ہیں۔
وأخرجه ابن عدي في "الكامل" 1/ 423 من طريق خلف - وتحرَّف في المطبوع إلى: خالد - بن سالم، عن يحيى بن آدم، بهذا الإسناد.
حوالہ / تخریج: اسے ابن عدی نے "الکامل" (1/ 423) میں خلف (مطبوعہ میں غلطی سے خالد لکھا ہے) بن سالم عن یحییٰ بن آدم کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وسيأتي من طريق وكيع عن إسرائيل عند المصنف برقم (4342). وانظر (4341).
حوالہ: یہ روایت آگے مصنف کے ہاں وکیع عن اسرائیل کے طریق سے نمبر (4342) پر آئے گی۔ (دیکھیں 4341)۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2924 سے ماخوذ ہے۔