حدیث نمبر: 2854
حدثنا أبو الوليد الفقيه، حدثنا الحسن بن سفيان، حدثنا عمار بن خالد ومحمد بن معاوية، قالا: حدثنا علي بن هاشم حدثنا إسماعيل بن مسلم، عن عمرو بن دينار، عن طاووس، عن ابن عباس: أنَّ رجلًا ظاهَرَ من امرأته، فرأى خَلْخالَها في ضَوْء القمر، فأعجبَه فوَقَع عليها، فأتى النبيَّ ﷺ، فذكر ذلك له، فقال: "قال الله ﷿: ﴿مِنْ قَبْلِ أَنْ يَتَمَاسَّا﴾ [المجادلة: 3] "، فقال: قد كان ذلك، فقال رسول الله ﷺ: "أمسِكْ حتى تُكفِّرَ" (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2818 - إسماعيل واه
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی سے ظہار کیا، پھر چاندنی رات میں اس کی پازیب دیکھی تو وہ اسے بھلی لگی اور اس نے اس سے ہمبستری کر لی، پھر نبی کریم ﷺ کے پاس آ کر سارا معاملہ ذکر کیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ عزوجل کا ارشاد ہے: ﴿مِنْ قَبْلِ أَنْ يَتَمَاسَّا﴾ ”اس سے پہلے کہ وہ ایک دوسرے کو چھوئیں“ [سورة المجادلة: 3]“، اس نے عرض کیا: ”(مجھ سے ہمبستری) ہو گئی ہے“، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اب (دوبارہ قربت سے) رکے رہو جب تک تم کفارہ ادا نہ کر دو۔“

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الطلاق / حدیث: 2854
درجۂ حدیث محدثین: صحيح بطرقه وشاهده كسابقه
تخریج حدیث «صحيح بطرقه وشاهده كسابقه، وهذا إسناد ضعيف لضعف إسماعيل بن مسلم - وهو المكي - فهو ضعيف كما أشار إليه الذهبي في "تلخيصه"، وقد تقدم قبله من طريق أخرى عن ابن عباس، لكنه اختُلف فيها في الوصل والإرسال كما بيَّنّاه هناك، والحكم بوصله بجملة طرقه غير مستبعد.» [ترقيم الرساله 2854] [ترقيم الشركة 2834] [ترقيم العلميه 2818]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) صحيح بطرقه وشاهده كسابقه، وهذا إسناد ضعيف لضعف إسماعيل بن مسلم - وهو المكي - فهو ضعيف كما أشار إليه الذهبي في "تلخيصه"، وقد تقدم قبله من طريق أخرى عن ابن عباس، لكنه اختُلف فيها في الوصل والإرسال كما بيَّنّاه هناك، والحكم بوصله بجملة طرقه غير مستبعد.
درجۂ حدیث: یہ حدیث پچھلی حدیث کی طرح اپنے طرق اور شاہد کی بنا پر "صحیح" ہے، لیکن (یہ والی) سند "ضعیف" ہے۔
فنی نکتہ / علّت: اس کا ضعف "اسماعیل بن مسلم" (المکی) کی وجہ سے ہے، وہ ضعیف ہیں جیسا کہ ذہبی نے "التلخیص" میں اشارہ کیا ہے۔ اس سے پہلے ابن عباس سے دوسرے طریق سے یہ حدیث گزر چکی ہے، لیکن اس میں وصل اور ارسال کا اختلاف تھا جیسا کہ ہم نے بیان کیا۔ تمام طرق کو ملا کر اس کے "موصول" ہونے کا حکم لگانا بعید نہیں ہے۔
وأخرجه البيهقي 7/ 386 من طريق إبراهيم بن إسحاق الصيني، عن علي بن هاشم، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے بیہقی (7/ 386) نے ابراہیم بن اسحاق الصینی کے طریق سے، انہوں نے علی بن ہاشم سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه إسحاق بن راهويه في "مسنده" قسم مسند ابن عباس (773) عن عبد الله بن نمير، والدارقطني (3855) من طريق عبد الرحمن المحاربي، كلاهما عن إسماعيل بن مسلم، به.
حوالہ / مصدر: اسے اسحاق بن راہویہ نے "مسند" (قسم مسند ابن عباس: 773) میں عبد اللہ بن نمیر سے؛ اور دارقطنی (3855) نے عبد الرحمن المحاربی کے طریق سے تخریج کیا ہے۔ یہ دونوں اسے اسماعیل بن مسلم سے اسی طرح روایت کرتے ہیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2854 سے ماخوذ ہے۔