حدیث نمبر: 2851
أخبرنا أبو الفضل الحسن بن يعقوب بن يوسف العَدْل، حدثنا يحيى بن أبي طالب، أخبرنا يزيد بن هارون، أخبرنا محمد بن إسحاق، عن محمد بن عمرو بن عطاء، عن سليمان بن يَسَار، عن سلمة بن صَخْر الأنصاري، قال: كنتُ امرَأً قد أُوتِيتُ من جِماع النساء ما لم يُؤتَ غَيري، فلما دخلَ رمضانُ ظاهرتُ من امرأتي مخافةَ أن أُصيبَ منها شيئًا في بعض الليل، وأتتَابَعَ (2) من ذلك، ولا أستطيع أن أَنزِعَ حتى يُدركَني الصبحُ، فبينا هي ذاتَ ليلة تَخدُمني إذ انكشفَ لي منها شيءٌ، فوَثَبتُ عليها، فلما أصبحتُ، غدَوتُ على قومي فأخبرتهم خَبَري، فقلتُ: انطلقوا معي إلى رسول الله ﷺ، فقالوا: لا والله لا نذهبُ معك، نَخافُ أن يَنزِلَ فينا قرآنٌ ويقولَ فينا رسولُ الله ﷺ مَقالةً يبقى علينا عارُها، فاذهب أنت فاصنَعْ ما بَدَا لك، فأتيتُ رسولَ الله ﷺ فأخبرتُه خَبَري، فقال: "أنت ذاكَ؟ " فقلتُ: أنا ذاك، فاقضِ فِيَّ حكمَ الله، فإني صابِرٌ مُحتَسِبٌ، قال: "اعتِقْ رقَبةً"، فضربتُ صفحةَ عُنقِ رقَبتي بيدي، فقلت: والذي بعثكَ بالحقّ، ما أصبحتُ أملِكُ غيرَها، قال: "صُمْ شَهرَين متتابِعَين" فقلتُ: يا رسول الله، وهل أصابني ما أصابني إلّا في الصيام؟ قال: "فأطعِمْ ستين مِسكينًا" قلتُ: يا رسول الله، والذي بعثكَ بالحقّ، لقد بِتْنا ليلتَنا هذه وَحْشًا ما نجدُ عشاءً، قال: "انطلِقْ إلى صاحب الصدقة صدقةِ بني زُرَيق، فليدفَعْها لك، فأطعِمْ منها وَسْقًا ستين مسكينًا، واستعِنْ بسائرها على عيالِك"، فأتيتُ قومي، فقلت: وجدتُ عندكم الضّيقَ (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وله شاهد من حديث يحيى بن أبي كثير عن أبي سلمة بن عبد الرحمن، غير أنه قال: سلمان بن صخر:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2815 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر

سیدنا سلمہ بن صخر انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ میں ایک ایسا شخص تھا جسے عورتوں سے قربت کے معاملے میں (غیر معمولی قوت و اشتہا) دی گئی تھی جو کسی دوسرے کو نہیں ملی، پس جب رمضان کا مہینہ شروع ہوا تو میں نے اپنی بیوی سے ”ظہار“ کر لیا (یعنی اسے اپنی ماں کی پشت کے برابر قرار دے دیا) اس خوف سے کہ کہیں میں رات کے کسی حصے میں اس سے کچھ (قربت) نہ کر بیٹھوں اور پھر یہ سلسلہ جاری رہے یہاں تک کہ صبح ہو جائے اور میں خود کو روک نہ پاؤں۔ ایک رات کا واقعہ ہے کہ وہ میری خدمت کر رہی تھی کہ اس کا جسم مجھ پر ظاہر ہو گیا، تو میں (جذبات سے مغلوب ہو کر) اس پر ٹوٹ پڑا، جب صبح ہوئی تو میں اپنی قوم کے پاس گیا اور انہیں اپنی خبر دی، میں نے کہا: ”میرے ساتھ رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں چلو۔“ انہوں نے کہا: ”نہیں، اللہ کی قسم! ہم تمہارے ساتھ نہیں جائیں گے، ہمیں ڈر ہے کہ کہیں ہمارے بارے میں قرآن نازل نہ ہو جائے یا رسول اللہ ﷺ ہمارے متعلق ایسی بات نہ کہہ دیں جس کی عار ہم پر باقی رہ جائے، لہٰذا تم خود ہی جاؤ اور جو مناسب سمجھو کرو۔“ چنانچہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور سارا قصہ سنایا، آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”تم وہی شخص ہو؟“ میں نے عرض کیا: میں وہی ہوں، پس مجھ پر اللہ کا حکم جاری فرمائیں، میں صبر کرنے والا اور اجر کی امید رکھنے والا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایک غلام آزاد کرو۔“ میں نے اپنے ہاتھ سے اپنی گردن کے پچھلے حصے پر تھپکی دی اور عرض کیا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا! میں اس (اپنی جان) کے سوا کسی چیز کا مالک نہیں ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”دو مہینے کے مسلسل روزے رکھو۔“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا مجھے یہ سب کچھ روزوں کی وجہ سے ہی پیش نہیں آیا (کہ میں نے روزے ٹوٹنے کے ڈر سے ظہار کیا اور پھر روزے میں ہی جذبات بے قابو ہوئے)؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو پھر ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ۔“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا! ہم نے یہ رات اس حال میں گزاری کہ ہمارے پاس رات کے کھانے کے لیے کچھ نہیں تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بنو زریق کے صدقہ جمع کرنے والے کے پاس جاؤ، وہ تمہیں صدقہ کا مال دے دے گا، تم اس میں سے ایک وسق (تقریباً 180 کلو غلہ) ساٹھ مسکینوں کو کھلا دو اور باقی سے اپنے اہل و عیال کی مدد کرو۔“ پھر میں اپنی قوم کے پاس واپس آیا اور کہا: میں نے تمہارے پاس تنگی اور بزدلی پائی جبکہ رسول اللہ ﷺ کے پاس وسعت اور برکت پائی۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ اس کی ایک شاہد روایت یحییٰ بن ابی کثیر کی ابوسلمہ بن عبدالرحمن سے مروی ہے، مگر اس میں انہوں نے (سلمہ کے بجائے) ”سلمان بن صخر“ کہا ہے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الطلاق / حدیث: 2851
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 2851] [ترقيم الشركة 2831] [ترقيم العلميه 2815]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) هو بالياء التحتانية، كما أُعجمت في (ز)، والتتابع: الوقوع في الشر من غير فكر ولا رَويّة، والمتابعة عليه، ولا يكون في الخير.
نوٹ / توضیح: (لفظ "یتتابع" میں) یاء تحتانیہ ہے جیسا کہ نسخہ (ز) میں نقطے لگے ہیں۔ "التتابع" کا مطلب ہے: بغیر سوچ بچار کے شر میں پڑنا اور اس کی پیروی کرنا، اور یہ لفظ خیر (کے کاموں) میں استعمال نہیں ہوتا۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2851 سے ماخوذ ہے۔