المستدرك على الصحيحين
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
مَنْ تَزَوَّجَ وَلَمْ يَفْرِضْ صَدَاقًا باب: جس نے نکاح کیا اور مہر مقرر نہ کیا
سمعتُ أبا عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ وقيل له: سمعتَ الحسن بن سفيان يقول: سمعتُ حرملة بن يحيى يقول: سمعتُ الشافعي يقول: إن صحَّ حديث بَرْوَعَ بنتِ واشِقٍ قلتُ به. فقال أبو عبد الله: لو حضرتُ الشافعيَّ رضي الله عنه لقمتُ على رؤوس أصحابه، وقلتُ: فقد صحَّ الحديثُ، فقُلْ به. قال الحاكم: فالشافعي إنما قال: لو صحَّ الحديثُ، لأنَّ هذه الرواية وإن كانت صحيحةً فإنَّ الفتوى فيه لعبد الله بن مسعود، وسنَدُ الحديث لِنَفَر من أشجَعَ، وشيخُنا أبو عبد الله رحمه الله إنما حَكَمَ بصحّة الحديث لأنَّ الثقة قد سمَّى فيه رجلًا من الصحابة، وهو مَعقِلُ بن سِنان الأشجعي. وبصحة ما ذكرتُه:
ابو عبداللہ محمد بن یعقوب الحافظ سے مروی ہے کہ انہوں نے امام شافعی رحمہ اللہ کا یہ قول سنا: ”اگر بروع بنت واشق والی حدیث صحیح ثابت ہو جائے تو میں اسے ہی اپنا مسلک بنا لوں گا۔“ تو ابو عبداللہ نے کہا: اگر میں امام شافعی رضی اللہ عنہ کے دور میں ہوتا تو ان کے شاگردوں کے سامنے کھڑے ہو کر کہتا کہ یہ حدیث تو صحیح ثابت ہو چکی ہے، لہٰذا اب اس کے مطابق قول اختیار کیجیے۔
امام حاکم فرماتے ہیں: امام شافعی نے اس کی صحت پر اس لیے توقف کیا تھا کیونکہ اگرچہ یہ روایت درست تھی مگر فتویٰ عبداللہ بن مسعود کا تھا اور (اس وقت) سند میں قبیلہ اشجع کے چند غیر معروف لوگ تھے، جبکہ ہمارے شیخ ابو عبداللہ نے اس لیے اس کی صحت کا حکم لگایا کیونکہ ایک ثقہ راوی نے اس میں ایک معتبر صحابی کا نام صراحت سے ذکر کر دیا ہے اور وہ معقل بن سنان اشجعی رضی اللہ عنہ ہیں۔
میں نے جو ذکر کیا ہے اس کی تائید اس سے ہوتی ہے: