حدیث نمبر: 2773
أخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا عبد الرحمن بن مَهدي، عن سفيان، عن فِراس، عن الشَّعبي، عن مسروق، عن عبد الله: في رجلٍ تزوّج امرأةً، فمات ولم يَدخُل بها، ولم يَفْرِض لها، فقال: لها الصَّداقُ كاملًا وعليها العِدّة، ولها الميراث، فقام مَعقِل بن سِنان فقال: شهدتُ رسولَ الله ﷺ قَضَى به في بَرْوَعَ بنتِ واشِقٍ (1). فصار الحديث صحيحًا على شرط الشيخين.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2738 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اس شخص کے بارے میں روایت ہے جس نے کسی عورت سے نکاح کیا اور اس سے خلوت کرنے اور مہر مقرر کرنے سے پہلے ہی فوت ہو گیا، تو آپ نے فرمایا: ”اس عورت کے لیے مکمل مہر (مہرِ مثل) ہے، اس پر عدت (لازم) ہے اور وہ وراثت کی حقدار ہے۔“ تب سیدنا معقل بن سنان رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ نے بروع بنت واشق کے بارے میں یہی فیصلہ فرمایا تھا۔
چنانچہ یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہو گئی۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب النكاح / حدیث: 2773
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،سفيان: هو الثَّوري، وفراس: هو ابن يحيى، والشعبي: هو عامر بن شراحيل، ومسروق: هو ابن الأجدع، وعبد الله: هو ابن مسعود.» [ترقيم الرساله 2773] [ترقيم الشركة 2754] [ترقيم العلميه 2738]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح. سفيان: هو الثَّوري، وفراس: هو ابن يحيى، والشعبي: هو عامر بن شراحيل، ومسروق: هو ابن الأجدع، وعبد الله: هو ابن مسعود.
درجۂ حدیث: اس کی اسناد "صحیح" ہے۔
فنی نکتہ / علّت: سند میں مذکور ناموں کی وضاحت یوں ہے: سفیان سے مراد "سفیان الثوری"، فراس سے مراد "فراس بن یحییٰ"، شعبی سے مراد "عامر بن شراحیل"، مسروق سے مراد "مسروق بن الاجدع" اور عبد اللہ سے مراد جلیل القدر صحابی حضرت "عبد اللہ بن مسعود" رضی اللہ عنہ ہیں۔
وهو في "مسند أحمد" 30/ (18464).

وأخرجه أبو داود (2114)، وابن ماجه (1891)، والنسائي (5492)، وابن حبان (4098) من طرق عن عبد الرحمن بن مهدي، بهذا الإسناد. وانظر ما قبله.

حوالہ / مصدر: یہ روایت "مسند احمد" (30/ 18464) میں موجود ہے۔ نیز اسے امام ابوداؤد (2114)، ابن ماجہ (1891)، نسائی (5492) اور ابن حبان (4098) نے عبد الرحمن بن مہدی کے مختلف طرق سے اسی اسناد کے ساتھ روایت کیا ہے۔ اس سے پہلے والی روایت بھی ملاحظہ فرمائیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2773 سے ماخوذ ہے۔