حدیث نمبر: 2711
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا يحيى بن سعيد، حدثنا ابن عَجْلان، عن سعيد بن أبي سعيد، عن أبي هريرة، عن النبي ﷺ قال: "ثلاثةٌ حقٌّ على الله أن يُعِينَهم: المجاهدُ في سبيل الله، والناكحُ يريد أن يَستعِفَّ، والمكاتَبُ يريدُ الأداءَ" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2678 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”تین شخص ایسے ہیں جن کی مدد کرنا اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ کرم پر لازم کر لیا ہے: اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والا، نکاح کرنے والا جو (شادی کے ذریعے) پاکدامنی کا ارادہ رکھتا ہو، اور وہ مکاتب غلام جو (اپنی آزادی کے لیے رقم کی) ادائیگی کا ارادہ رکھتا ہو۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب النكاح / حدیث: 2711
درجۂ حدیث محدثین: إسناده قوي
تخریج حدیث «إسناده قوي،، ابن عجلان» [ترقيم الرساله 2711] [ترقيم الشركة 2693] [ترقيم العلميه 2678]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده قوي، ابن عجلان - وهو محمد - صدوق لا بأس به. سعيد بن أبي سعيد: هو المقبُري، ويحيى بن سعيد: هو القطّان، ويحيى بن محمد بن يحيى: هو الذُّهْلي.
درجۂ حدیث: اس کی سند "قوی" ہے۔
راویوں کی پہچان: محمد بن عجلان "صدوق" ہیں، سعید بن ابی سعید "المقبری" ہیں، یحییٰ بن سعید "القطان" ہیں اور یحییٰ بن محمد "الذہلی" ہیں۔
وأخرجه أحمد 12/ (7416) عن يحيى بن سعيد، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (12/7416) نے یحییٰ بن سعید (القطان) کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه ابن ماجه (2518) من طرق، والترمذي (1655)، والنسائي (4313) و (4995) من طرق عن محمد بن عجلان، به. وقال الترمذي: حديث حسن.
حوالہ / مصدر: اسے ابن ماجہ، ترمذی اور نسائی نے مختلف طرق سے محمد بن عجلان سے روایت کیا ہے۔
درجۂ حدیث: امام ترمذی نے اسے "حدیث حسن" قرار دیا ہے۔
وسيأتي برقم (2895) من طريق معاذ بن المثنى عن مُسدَّد.
نوٹ: یہ حدیث آگے نمبر (2895) پر معاذ بن المثنیٰ عن مسدد کے طریق سے دوبارہ آئے گی۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2711 سے ماخوذ ہے۔