حدیث نمبر: 2550
أخبرني أحمد بن محمد العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا محمد بن كثير، حدثنا سفيان الثَّوْري، عن أبي إسحاق، عن رجل من مُزَينة، قال: سمع رسولُ الله ﷺ رجلًا ينادي في شِعاره: يا حرامُ، يا حرامُ، فقال رسول الله ﷺ: "يا حلالُ، يا حلالُ" (3). صحيح على شرط الشيخين على الإرسال (1)، وإذا الرجل الذي لم يُسمِّه محمد ابن كثير عن الثَّوْري عبد الله بن مُغفَّل المزني:
حافظ طلحہ بابر
قبیلہ مزینہ کے ایک شخص سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو اپنے شعار (جنگی نعرے) میں ”یا حرام، یا حرام“ پکارتے ہوئے سنا، تو رسول اللہ ﷺ نے (اصلاح فرماتے ہوئے) فرمایا: ”یا حلال، یا حلال (کہو)۔“
یہ حدیث مرسل ہونے کی صورت میں شیخین کی شرط پر صحیح ہے، اور وہ شخص جس کا نام اس روایت میں مبہم رکھا گیا ہے وہ سیدنا عبداللہ بن مغفل مزنی رضی اللہ عنہ ہیں۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) إسناده صحيح إن ثبت سماع أبي إسحاق -وهو عمرو بن عبد الله السَّبيعي- من الرجل المزني، وهذا الرجل المزني هو صحابي الحديث، كما وقع مصرَّحًا به في بعض روايات الحديث أنه سمع النبيَّ ﷺ يقول ذلك، وقد لقي أبو إسحاق جماعة من الصحابة وسمع منهم، ورأى جماعة ولم يسمع منهم. وجاء في الطريق التالية تصريحه باسم الصحابي أنه عبد الله بن مُغفَّل، وقد ورد في عدة روايات أنَّ أبا إسحاق رآه يُصلِّي، فلعله يكون سمع منه، هذا إن سلَّمنا بصحة الطريق إليه في حديث الشعار كما في الرواية التالية، فإنَّ فيها مقالًا كما سيأتي.
درجۂ حدیث: اگر ابواسحاق السبیعی کا اس 'مزنی' شخص سے سماع ثابت ہو جائے تو سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ: یہ مزنی شخص دراصل صحابی رسول ہیں۔ اگلی روایت میں صراحت ہے کہ وہ عبد اللہ بن مغفل ہیں۔ ابواسحاق نے انہیں نماز پڑھتے دیکھا ہے، لہٰذا سماع کا امکان موجود ہے۔
وأخرجه أحمد 25 / (15865) عن يحيى بن آدم، عن سفيان الثَّوري، به.
حوالہ: امام احمد نے (15865) میں یحییٰ بن آدم عن سفیان ثوری کی سند سے اسے روایت کیا ہے۔
(1) كذا سمى المصنف إبهام الصحابي إرسالًا، وليس هذا من عُرْفِ جمهور المحدِّثين.
اہم نکتہ: امام حاکم نے صحابی کے مبہم ہونے کو "ارسال" کہا ہے، جبکہ جمہور محدثین کے نزدیک یہ ارسال نہیں کہلاتا۔
درجۂ حدیث: اگر ابواسحاق السبیعی کا اس 'مزنی' شخص سے سماع ثابت ہو جائے تو سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ: یہ مزنی شخص دراصل صحابی رسول ہیں۔ اگلی روایت میں صراحت ہے کہ وہ عبد اللہ بن مغفل ہیں۔ ابواسحاق نے انہیں نماز پڑھتے دیکھا ہے، لہٰذا سماع کا امکان موجود ہے۔
وأخرجه أحمد 25 / (15865) عن يحيى بن آدم، عن سفيان الثَّوري، به.
حوالہ: امام احمد نے (15865) میں یحییٰ بن آدم عن سفیان ثوری کی سند سے اسے روایت کیا ہے۔
(1) كذا سمى المصنف إبهام الصحابي إرسالًا، وليس هذا من عُرْفِ جمهور المحدِّثين.
اہم نکتہ: امام حاکم نے صحابی کے مبہم ہونے کو "ارسال" کہا ہے، جبکہ جمہور محدثین کے نزدیک یہ ارسال نہیں کہلاتا۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2550 سے ماخوذ ہے۔